الیکشن کمیشن کاحلقہ پی کے 95 میں دوبارہ انتخابات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال کیا جاتا ہے کہ تمام جماعتوں نے خواتین ووٹروں کےانتخاب میں حصہ نہ لینے پر اتفاق کیا تھا

چیف الیکشن کمشنر نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 95 جندول لوئر دیر میں خواتین ووٹروں کی عدم شمولیت کی وجہ سے انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وہاں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اس فیصلے کے بعد اس حلقے سے کامیاب ہونے والے جماعت اسلامی کے امیدوار اعزاز الملک افکاری نے میڈیا کو بتایا کہ وہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف کچھ خواتین نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور عدالت میں دائر ہونے والی پٹیشن میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ ضمنی انتخاب سے قبل امیدواروں نے فیصلہ کیا تھا کہ اس حلقہ انتخاب میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جائے گا۔

خیال رہے کہ سات مئی کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدوار اعزاز الملک 18 ہزار سے زائد ووٹ لےکر کامیاب قرار پائے تھے جبکہ ان کے مد مقابل عوامی نیشنل پارٹی کے بہادر خان 16822 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

یہ نشست جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے سینیٹر منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے سات مئی کو ضمنی انتخاب کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 46 ہزار سے زائد ہیں۔

واضح رہے کہ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹروں کی تعداد 53 ہزار سے زیادہ ہے، تاہم یہاں سے کسی بھی خاتون نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اس بارے میں جماعت اسلامی کی ایم این اے عائشہ سید نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ خواتین کی ووٹنگ کے حوالے سے ہماری تیاری بھر پور تھی تاہم علاقائی طور جو فیصلہ سامنے آتا ہے اس کا احترام کرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق بعض اوقات خواتین کی ووٹنگ پر پابندی یا تو علاقائی روایات کے وجہ سے ہوتی ہے یا سکیورٹی خدشات کے وجہ سے۔ لیکن انھوں نے واضح طور پر یہ نہیں کہا تھا کہ اس حلقے میں خواتین کی ووٹ ڈالنے پر پابندی کس وجہ سے تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس علاقے میں سیاسی پارٹیوں کے مابین خواتین کی ووٹنگ میں حصہ نہ لینے پر اتفاق ہوا تھا۔

اس حلقے میں عوامی نیشنل پارٹی کو جمعیت علمائے اسلام ف اور پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی، جبکہ جماعت اسلامی کو پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔

خیال رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں سراج الحق اس نشست سے 23 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار حاجی ہدایت اللہ 11130 لے کر دوسرے نمبر پر آئے تھے۔

اسی بارے میں