فیفا کے صدر کینیڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیپ بلیٹر خواتین ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے کینیڈا جائیں گے

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر فیفا اہلکاروں پر بدعنوانی کے الزامات اور گرفتاریوں کے باوجود خواتین ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے کے لیے کینیڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ پولیس نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی ایما پر فیفا کے سات اہلکاروں کوگرفتار کیا تھا۔

دوسری طرف فیفا کے جنرل سیکریٹری ژیروم والک نے خواتین فٹبال کے عالمی کپ کی افتتاحی تقریب میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں فیفا کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ زیورخ میں فیفا ہیڈکوارٹر میں معاملات پر توجہ دینے کے لیے وہ خواتین کے فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے کینیڈا نہیں جا پائیں گے۔

فیفا کے جنرل سیکریٹری کو چھ جون کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔

فیفا کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور اس کے سات اہلکاروں کو زیورخ میں حراست میں لیاگیا تھا۔ فیفا اہلکاروں کو فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔

فیفا کے اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد سیپ بلیٹر کو پانچویں بار صدرات کے انتخاب سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن انھوں نے یہ کہہ کر مشورہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ ’اب بہت دیر ہو گئی ہے۔‘

سیپ بلیٹر ایک بار پھر بھاری اکثریت سے فیفا کے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔

ادھر فیفا نے شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور کیریبیئن جزائر فٹبال فیڈریشن، کنکیف کے سیکریٹری جنرل اینریک سانز کو عارضی طور فٹبال کی سرگرمیوں سے معطل کر دیا ہے۔

کولمبیا سے تعلق رکھنے والے اینریک سانز کو یو ایس اٹارنی دفتر نیویارک اور فیفا کی ایتھکس کمیٹی کی تحقیقات کے بعد معطل کیا گیا ہے۔

کنکیف جس کا صدر دفتر میامی میں ہے، وہ شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور کیرییبئن جزائر میں فٹبال کا نگران ادارہ ہے۔

اسی بارے میں