ماڈل آیان علی کی ضمانت ایک بار پھر مسترد

Image caption مختلف عدالتوں نے تین بار آیان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی ہے

راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے پانچ لاکھ امریکی ڈالر بیرونِ ملک سمگل کرنے الزام میں گرفتار ہونے والی ماڈل ایان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس کیس میں منی لانڈرنگ کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے جس میں دو ملزمان کے وارنٹِ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں چنانچہ ایسے حالات میں ملزمہ کی ضمانت منظور نہیں کی جا سکتی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ پہلے ہی ملزمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکا ہے، اس لیے متعلقہ عدالت کیسے اس مقدمے میں ان کی ضمانت لے سکتی ہے۔ یاد رہے کہ مختلف عدالتوں نے تین بار آیان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی ہے۔

کسٹم عدالت کے جج رانا آفتاب احمد خان کی عدالت میں ملزمہ کی طرف سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا کی وجہ سے یہ مقدمہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جبکہ حقیقت میں اس مقدمے میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اُن کی موکلہ کو ضمانت حاصل کرنے سے روکے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزمہ صرف اسلام آباد ہوائی اڈے کے لاؤنج میں موجود تھیں اور اُنھوں نے بورڈنگ کارڈ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔ سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ آیان علی کے پاس جو پانچ لاکھ امریکی ڈالر تھے وہ اُنھوں نے اپنی جائیداد فروخت کر کے حاصل کیے تھے اور یہ رقم اُنھوں نے اپنے بھائی کو دینی تھی۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں ابھی منی لانڈرنگ کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں ملزمہ کا بورڈنگ کارڈ اور اُن کے پاسپورٹ کی کاپی بھی پیش کی جس پر دوبئی کا ویزا لگا ہوا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے مقدمے میں دیگر دو ملزمان اویس اور ملک ممتاز کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں، جن کے خلاف اُنھوں نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست بھی دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ آیان علی کو اس سال مارچ میں کسٹم حکام نے پانچ لاکھ امریکی ڈالر سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد اُن کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جو تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ مقدمے کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمہ پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

اسی بارے میں