راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کا افتتاح

Image caption یہ مسافر بس راولپنڈی کے علاقے صدر سے 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد کے پبلک سیکریٹیریٹ تک مسافروں کو 20 روپے اور 50 منٹ میں پہنچائے گی

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے 45 ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد، راولپنڈی میٹرو بس منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔

یہ مسافر بس سروس راولپنڈی کے علاقے صدر سے 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد کے پبلک سیکریٹیریٹ تک مسافروں کو 20 روپے اور 50 منٹ میں پہنچائے گی۔

اس روٹ پر 68 بسیں چلائی جائیں گی اور ہر روز اوسطاً ایک 1,35,000 ہزار مسافر ان میں سفر کریں گے۔

چونکہ یہ کرایہ مارکیٹ سے بہت کم ہے اور اس سے بسیں چلانے کے اخراجات وصول نہیں کیے جا سکیں گے، لہٰذا وفاقی اور پنجاب حکومت بس چلانے والی کمپنی کو دو ارب روپے سالانہ سبسڈی کی مد میں ادا کریں گی۔

لاہور کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد وہ شہر ہیں جہاں میٹرو بس چلائی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے اسی نوعیت کا منصوبہ ملتان میں بھی شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

سرکاری سطح پر اس منصوبے کو عوامی فلاحی منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسے مختلف سیاسی حلقوں اور ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔

اس شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کی اچھی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن میٹرو منصوبے اس ذمہ داری کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتے۔

لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں ٹاؤن پلاننگ کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس انجم کہتے ہیں کہ میٹرو بس منصوبے پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کا حل نہیں ہیں۔

’لاہور میں اوسطاً 12 لاکھ سے زائد افراد ہر روز پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں ایسے میں صرف سوا یا ڈیڑھ لاکھ افراد ان میٹرو بسوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ باقی دس لاکھ سے زیادہ مسافروں کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے‘؟

Image caption میٹرو منصوبے کے باعث ان مسافروں کو بھی فائدہ ہوا ہے جو میٹرو بسوں میں سفر نہیں کرتے: عزیر شاہ

ڈاکٹر غلام عباس انجم یہی اعتراض اسلام آباد میٹرو منصوبے کے بارے میں بھی کرتے ہیں جہاں اس سے بھی کم مسافر میٹرو بسیں استعمال کریں گے۔

پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کے جنرل مینیجر عزیر شاہ اس اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ حکومت لاہور میں اس منصوبے کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

’ہمارا ارادہ ہے کہ 14 چھوٹے (فیڈر) روٹس پر اسی طرح کی بسیں چلائی جائیں جو کہ ہم پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے چلوائیں گے۔ جب یہ 14 نئے روٹس اس مین میٹرو روٹ کے ساتھ منسلک ہو جائیں گے تو ہم لاہور میں 90 فیصد علاقے کو کور کر لیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ میٹرو منصوبے کے باعث ان مسافروں کو بھی فائدہ ہوا ہے جو میٹرو بسوں میں سفر نہیں کرتے۔

’جن روٹس پر میٹرو بسیں چلتی ہیں وہاں عام بسیوں اور ویگنیں نہیں چلتیں۔ اس کے علاوہ نجی کاروں کی تعداد بھی لاہور کی سڑکوں پر میٹرو بسوں کی وجہ سے کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر گنجائش زیادہ ہو گئی ہے اور جگہ جگہ ٹریفک جام ہونا جو پہلے عام منظر تھا، اب ختم ہو گیا ہے۔‘

اس کے باوجود لاہور یونیورسٹی کے شعبۂ ٹاؤن پلاننگ کے سربراہ ڈاکٹر غلام عباس انجم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ملک کے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کم کرنے اور عوام کو باوقار اور آرام دہ سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہمہ جہتی حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی۔

’حکومت کو ایک باقاعدہ ٹرانسپورٹ پالیسی بنانا ہو گی جس میں نجی ٹرانسپورٹ کو بھی شامل کر کے پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک مربوط نظام بنانا ہو گا جس میں طے ہو کہ کتنے مسافر میٹرو بس پر سفر کریں گے، کتنے نجی بسوں کو استعمال کریں گے، ان پر حکومت کیا سہولت دے سکے گی؟ صرف ایک روٹ پر میٹرو بس چلا دینا پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کا حل نہیں ہے۔‘

18 سالہ عمران شاہد ڈاکٹر غلام عباس کی اس تجویز کے حامی ہیں۔

عمران شاہد پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور لاہور کے علاقے شاہدرہ میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میٹرو بس سروس ان کے گھر سے دور ہے اس لیے وہ اسے استعمال نہیں کر سکتے۔

’عام بس میں اتنا رش ہوتا ہے کہ مجھے کبھی کبھی ایک گھنٹے تک سٹاپ پر کھڑے رہنا پڑتا ہے کبھی جگہ ملتی ہے کبھی نہیں۔ اس لیے اکثر میں پہلی کلاس شروع ہونے تک یونیورسٹی نہیں پہنچ سکتا۔‘

عمران شاہد نے کہا کہ اگر ان کے گھر اور میٹرو بس سٹاپ تک رابطے کے لیے کوئی ذریعہ ہوتا تو شاید وہ بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکتے۔

بعض سیاسی رہنما تو اس منصوبے کے بنیادی تصور ہی سے اتفاق نہیں کرتے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جتنی رقم بس منصوبے پر خرچ کی گئی ہے اگر یہ رقم بچوں کی تعلیم پر خرچ کی جاتی تو اس سے آئندہ نسلوں کا بھی بھلا ہو سکتا تھا۔

اسی بارے میں