پاکستانی شناخت رکھنے والے غیرملکیوں کی گرفتاری کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 24 ہزار غیر ملکیوں کو گرفتار کر کے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ تھے۔

ان غیر ملکیوں نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی ’نادرا‘ کے حکام کے ساتھ مبینہ طور پر سازباز کر کے مختلف ادوار میں پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے تاہم اب اُنھیں منسوخ کیا جا چکا ہے۔

اُدھر نادرا کا کہنا ہے کہ ان 24 ہزار افراد کے علاوہ 76 ہزار سے زائد افراد کے شناختی کارڈ مشکوک ہونے کی صورت میں ان کی تجدید نہیں کی گئی ہے اور ان میں سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے۔

نادرا کے حکام کے مطابق جن غیر ملکیوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے ہیں ان میں سے اکثریت افغان باشندوں کی ہے جبکہ بنگلہ دیش اور برما سے تعلق رکھنے افراد علی الترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

خفیہ اداروں نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کو رپورٹیں بھجوائی ہیں جن میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے اہلکار ان افراد کی طرف سے مختلف بینکوں میں کھلوائے گئے اکاؤنٹ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ شناختی کارڈ پر ان افراد کے جو اپنے گھروں کے پتے لکھوائے تھے اُن میں اکثریت ان رہائشی پتوں پر موجود نہیں جبکہ اُن کے بارے میں معلومات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوں گے۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان رپورٹوں کی روشنی میں چاروں صوبوں کی پولیس کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کرایہ داروں سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کروائیں جس میں کرائے دار کے علاوہ مالک مکان کا موثر شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔ اہلکار کے مطابق اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے سے ایسے افراد کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔

اہلکار کے مطابق شناختی کارڈ منسوخ کیے جانے والے افراد کے بینک اکاؤنٹ بند کرنے کے بارے میں سٹیٹ بینک کو لکھا گیا تھا تاہم اس بارے میں اب تک خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی۔

نادرا کے ترجمان فائق علی کے مطابق ان 24 ہزار افراد کے علاوہ 76 ہزار سے زائد افراد ایسے بھی ہیں جن کے شناختی کارڈ مشکوک پائے گئے ہیں اور اس وجہ سے ان کی تجدید بھی نہیں کی گئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان 76 ہزار افراد میں سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کے کوائف کی تحقیقات کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان ٹیموں میں فوج کے خفیہ دارے آئی ایس آئی کے علاوہ آئی بی اور پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

فائق علی کے مطابق صوبہ پنجاب اور سندھ میں کوائف کی تحقیقات سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی سربراہی انٹیلی جنس بیورو کے افسران کریں گے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ان تحقیقاتی ٹیموں کی سربراہی آئی ایس آئی کے افسران کو سونپی گئی ہے اور بلوچستان میں ان ٹیموں میں فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں