پاکستان میں پانچ ماہ میں 135 پھانسیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی حکومت نے گذشتہ برس دسمبر میں سزائے موت پر پچھلے چھ برس سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے ملک میں سزائے موت دیے جانے کے عمل میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعداد سال کے پہلے پانچ ماہ میں 135 تک پہنچ گئی ہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے پھانسی کی سزائیں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں میں ایک سال کے دوران اتنی بڑی تعداد میں مجرموں کو پھانسی پر نہیں لٹکایا گیا۔

کمیشن نے جمعرات کو جاری کیے گیے ایک بیان میں ایک مرتبہ پھر سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت اور جس رفتار سے اس پر عمل کیا جا رہا ہے، وہ تشویش کا باعث ہے۔

کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاستِ پاکستان نے سنہ 2007 میں 134 افراد کو سزائے موت دی لیکن سنہ 2015 کے صرف پہلے پانچ ماہ میں پھانسی پر لٹکائے جانے والے ملزمان کی تعداد اس سے تجاوز کر گئی ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دسمبر 2014 میں طالبان کے بہیمانہ حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر پچھلے چھ برس سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت کا کہنا تھا غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے چند ہفتے بعد ہی تمام جرائم میں سزائے موت پانے والوں کو پھانسی دینے کا سلسلے شروع کر دیا گیا۔

کمیشن کی جانب سے دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2014 میں سات مجرموں کو پھانسی کی سزا دی گئی جبکہ اس سال جنوری میں یہ تعداد 13 تک پہنچ گئی۔

فروری میں چار کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا لیکن مارچ میں 42 افراد کو سزا دی گئی۔ اسی طرح اپریل میں 36 اور مئی میں 37 مجرموں کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیا گیا۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ جس رفتار سے پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل ہو رہا ہے جلد ہی پاکستان ان ملکوں میں شامل ہو جائے گا جو لوگوں کی جان لینے کے سب سے زیادہ درپے ہیں۔

کمیشن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں چھ سال تک پھانسی کی سزاوں پر غیر اعلانیہ پابندی رہی لیکن اس عرصے میں ملک میں نظامِ عدل اور قانون میں بہتری لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ قانون میں واضح خامیوں اور جرائم کے خلاف انصاف کے نظام میں بنیادی نقائص سے معصوم لوگوں کو پھانسی کی سزا دیے جانے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔

کمیشن نے مزید کہا کہ موجودہ حالات نے قتل کے ملزموں کے لیے یہ بات اور بھی مشکل بنا دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قانون کی نگاہ میں معصوم ثابت کر سکیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ سال ہا سال کے تجربے اور مشاہدے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سزاؤں میں اضافے سے جرائم کی شرح میں اضافے کو روکنا ممکن نہیں ہے۔

’جب سے پھانسیوں کا عمل دوبارہ شروع ہوا ہے اس سے پاکستان کی سکیورٹی کی صورت حال بہتر نہیں ہوئی اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پھانسی کی سزائیں جرائم میں کمی کا سبب نہیں بنتیں۔‘

کمیشن نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر کسی سبب سے فوری طور پر پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد فوری طور پر نہیں روکا جا سکتا تو پھر انتہائی خطرناک جرائم کے مرتکب مجرموں کے سوا باقی مجرموں کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

اسی بارے میں