ووٹ ڈالنے سے منع کرنے پر سوات، دیر میں خواتین کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضلع سوات کے علاقے چا رباغ سے تعلق رکھنے والے ان خواتین نے سنیچر کو سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا

پاکستان کے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کےخلاف جہاں ایک طرف امیدوار اور بعض سیاسی جماعتیں سڑکوں پر ہیں وہیں صوبے کے بعض علاقوں میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کا مسئلہ بھی سنگین صورت حال اختیار جا رہا ہے۔

سوات اور دیر لوئر میں بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کے خلاف ان اضلاع کے بعض حلقوں کی خواتین احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں۔

یہ خواتین ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ انھیں ووٹ کے استعمال سے زبردستی روکا گیا لہذا ان علاقوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو کلعدم قرار دیا جائے۔

ضلع سوات کے علاقے چا رباغ سے تعلق رکھنے والے ان خواتین نے سنیچر کو سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اس حلقے سے بلا مقابلہ منتحب ہونے والی کونسلر نزاکت بتایا کہ بلدیاتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے سے منع کر کے ہماری حق تلفی کی گئی ہے جو کہ قابل افسوس امر ہے۔

اس حوالے سے نزاکت نے بتایا کہ ووٹنگ کے دن حلقے کی 200 سے زائد خواتین کو نامعلوم وجوہات کے بنا پر پولنگ سٹیشنز سے زبردستی واپس بھیج دیا گیا جس کے خلاف وہ احتجاج کر رہی ہیں۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی عمل میں عدم شمولیت کے وجہ سے ان حلقوں میں ووٹوں کی شرح بھی کافی کم رہی۔

خواتین مظاہرین نے حکومت مطالبہ کیا ہے کہ جہاں جہاں خواتین کی ووٹنگ پر پابندی عائد کی گئی تھی وہاں دوبارہ انتخابات کرائیں جائیں۔

ضلع دیر لوئر کے علاقے منجائی کی خواتین نے بھی سنیچر کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے منع کرنے کے خلاف اوڈیگرام پل پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرہ کرنے والے خواتین نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے انھیں ووٹ ڈالنے سے منع کیا حالانکہ وہ ووٹ کے لیےگھروں سے نکلی تھیں۔

ان خواتین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وارڈ منجائی کا نتیجہ کلعدم قرار دیکر دوبارہ انتخابات کرائیں جائیں بصورت دیگر ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ ضلع دیر لوئر میں پہلی بار خواتین علاقائی روایات کو پس پشت ڈال کر بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلی تھیں۔

اطلات کے مطابق سوات کے علاقے اوڈیگرام کح ایک خاتون تسلیم نے بھی خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف ایک درخواست دی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیاگیا ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران علاقے میں ہونے والے ایک جرگے نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا تھا۔

درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ یونین کونسل اوڈیگرام میں دوبارہ انتخابات کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں جس میں خواتین کو بھی ووٹ ڈالنے کا اختیار دیا جائے۔

سوات کی خواتین جرگے کی سربراہ مس تبسم عدنان نے بتایا کہ خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے خلاف جرگے نے سپریم کورٹ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ضلع دیر لوئر کے حلقہ پی کے 95 پر حال ہی میں ہونے والے ضمنی ایلکشن میں خواتین کی عدم شمولیت پر ایلکشن کمیشن نے اس کلعدم قرار دیکر 12 جولائی کو دوبارہ انتخابات کا شیڈول جاری کیا تھا جس کا مقصد انتخابی عمل میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

اسی بارے میں