’پولو ہو تو لوگ شیعہ، سنّی سب بھول جاتے ہیں‘

Image caption بُلبُل جان کے بقول جب پولو کا میچ ہوتا ہے تو لوگ اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں، شیعہ، سنی تو دور کی بات ہے

بُلبل جان کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات پولو کے میچ کی طرح ہونے چاہییں۔

پولو اِس خطے کا قومی کھیل ہے اور یہاں اس کا جنون پاکستان بھر میں کرکٹ کے جنون سے کسی طرح بھی کم نہیں۔

بُلبل جان کا شمار گلگت بلتستان کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ اُن کی قیادت میں گلگت کی ٹیم 16 سال چمپیئن رہی۔

گلگت کے شاہی پولو گراؤنڈ میں کھڑے ہو کر بلبل جان شائقین کے جنون کو یاد کرتے ہیں۔

’ایک گھنٹے کا میچ ہوتا ہے جس کے لیے گراؤنڈ کھچا کھچ بھر جاتا ہے۔ باؤنڈری کی دیواریں، باہر کے درختوں، گھروں اور مساجد کی چھتوں پر لوگ ہوتے ہیں۔ جنھیں نظارہ نہیں ملتا، وہ فون کر کر کے سکور پوچھتے رہتے ہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ ہوتے ہیں اور لوگوں کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔‘

یہ شاہی پولو گراؤنڈ آدھا ایک حلقے کی حدود میں ہے اور آدھا دوسرے کی۔ ایک جانب سنّی جامع مسجد ہے اور دوسری جانب شیعہ امام بارگاہ۔

ایسی جغرافیائی، سیاسی اور مذہبی تقسیم پورے گلگت بلتستان میں ہے۔ البتہ گلگت شہر کا مرکزی حصہ جو قانون ساز اسمبلی کے پہلے دو حلقوں پر مشتمل ہے، پرامن یا پرتشدد حالات کا مرکز بنتا ہے۔

عام رائے یہ ہے کہ حلقہ ایک اور حلقہ دو میں انتخابات میں، یا اُس کے علاوہ بھی، امن رہے تو کہیں خرابی نہیں ہوتی، لیکن یہاں سے اُٹھنے والی ایک چنگاری پورے خطے میں آگ لگا دیتی ہے۔

آخری مرتبہ ایسے سنگین حالات 2012 میں پیدا ہوئے تھے جب گلگت میں ایک سنّی شخص کے قتل کے نتیجے میں سنی اکثریتی ضلعے دیامیر میں شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کر کے قتل کیا گیا۔

مسافروں کی لاشیں سکردو اور بالائی علاقوں کے شیعہ اکثریتی اضلاع میں پہنچیں اور کئی ہفتوں تک گلگت بلتستان کے ہر شہر میں صفِ ماتم بچھی رہی یا کرفیو نافذ رہا۔

فرقوں کی لکیریں مقامی سیاست میں بھی عیاں رہی ہیں، لیکن بُلبُل جان کے مطابق 2015 کی انتخابی مہم الگ رہی۔

’پہلے تو بہت مذہبی جنونیت تھی۔ لوگ اپنے اپنے عقیدے کے لوگوں کو بڑھ چڑھ کر ووٹ دیتے تھے۔ لیکن اب شعور نظر آ رہا ہے۔ لوگ سیاسی جماعتوں کو مذہبی جماعتوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔‘

ہیومن رائٹس کمیشن کے صوبائی رابطہ کار اسرارالدین اسرار کی رائے ہے کہ گلگت بلتستان میں گورننس آرڈر 2009 کے تحت وجود میں آنے والے سیاسی نظام نے فرقہ واریت کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے وہ الیکشن دیکھے ہیں جب پولنگ سے تین چار دن پہلے تک لوگوں کا خون بہایا جاتا تھا۔ ایک ماہ پہلے ہی ماحول فرقہ وارانہ ہو جاتا تھا اور مسجدوں کے اندر مہم چلتی تھی۔ مگر اِس دفعہ ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ سیاسی کارکن کو سب کا ووٹ چاہیے ہوتا ہے۔ اِس مہم میں فرقے کا استعمال بہت کم کیا گیا۔‘

صوبائی سیٹ اپ کے تحت گلگت بلتستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 2012 میں مساجد ریگولیشن ایکٹ منظور کیا تھا جس کے تحت مساجد کی سرگرمیوں کو محدود کر کے قانونی دائرۂ اختیار میں لایا گیا۔

انتخابات سے قبل سرکاری حلقوں میں یہ افواہیں سننے کو ملتی رہیں کہ اگرچہ فرقے کی سیاست بہت حد تک کم ہو چکی ہے لیکن پاک چین راہداری کے حالیے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ’بیرونی عناصر‘ پولنگ کے دن پرتشدد حالات کا سلسلہ پیدا کر سکتے ہیں۔

Image caption گلگت کا شاہی پولوگراؤنڈ آدھا ایک حلقے کی حدود میں ہے اور آدھا دوسرے کی

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ طاہر علی شاہ کی خواہش ہے کہ پُرامن، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات مستقبل کے لیے مثال بنیں۔

بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا: ’میں یہ چاہتا ہوں کہ اِس علاقے سے کوئی ایسی اچھی بات نکلے کہ لوگ آگے بھی کہیں کہ الیکشن ایسے ہونے چاہییں۔‘

بلبل جان کی خواہش ہے کہ انتخابات کے دوران بھی یہاں وہی ماحول ہو جو پولو کے میچ میں ہوتا ہے، جب ہر کوئی جذبے اور جنون کے ساتھ کھیل سے محظوظ ہوتا ہے، اپنی اپنی ٹیم کو داد دیتا ہے اور خواہ کھلاڑی شیعہ ہو یا سنی ہار جیت کو تسلیم کر کے خوشی خوشی گھروں کا رُخ کیا جاتا ہے۔

گلگت کے شاہی پولو گراؤنڈ میں میچ کے دوران ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حلقہ ایک والے اپنے حصے میں، حلقہ دو والے اپنے میں، سنی جامع مسجد کی طرف سنی اور شیعہ امام بارگاہ کی طرف شیعہ شائقین بیٹھیں۔

بُلبُل جان کے بقول جب پولو کا میچ ہوتا ہے تو لوگ ’اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ شیعہ، سنی تو دور کی بات ہے۔‘

اسی بارے میں