مزید ریمانڈ کی درخواست رد، شعیب شیخ کو جیل بھیج دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شعیب شیخ 27 مئی سے ایف آئی اے کی حراست میں تھے

کراچی کی مقامی عدالت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ، نائب صدر اور ڈائریکٹروں سمیت نو افراد کو جعلی ڈگریوں کے معاملے میں جیل بھیج دیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پیر کو تمام ملزمان کو جوڈیشل میجسٹریٹ نور محمد کی عدالت میں پیش کیا۔

ایگزیکٹ کے سربراہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

ایگزیکٹ: پہلے کیا، آگے کیا؟

ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے، لہٰذا ان کے ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔

عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور ملزمان کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔

عدالت نے ایف آئی اے حکام کو چالان پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے راولپنڈی اور اسلام آباد میں واقع دفتر سے وابستہ 26 افراد کے خلاف جعل سازی اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر کے ان میں سے 17 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایف آئی اے راولپنڈی اور اسلام آباد ریجن کے ڈائریکٹر انعام غنی نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ایگزیکٹ کے ریجنل ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈ محمد جمیل بھی شامل ہیں، تاہم اُنھیں گرفتار نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں اس پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا

اُنھوں نے کہا جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اُنھیں پیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ لینے کی استدعا کی جائے گی۔

ایف آئی اے نے کراچی میں شعیب شیخ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ الیکٹرانک ٹرانزیکشن کی زیر دفعہ 39/38، اینٹی منی لانڈرنگ کی دفعہ 4/3،468 اور 471 پی پی سی کے تحت دائر کیا ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ، وقاص عتیق، ذیشان انور، ذیشان احمد، محمد صابر اور ایگزیکٹ کی دبئی میں واقع کمپنی میسرز/ ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی کو فریق بنایا تھا۔

شعیب شیخ اور ڈائریکٹروں کی گرفتاری کے بعد کمپنی کے نائب صدر عمران احمد، ایسوسی ایٹ نائب صدر محمد رضوان، عدنان صبور اور انجینیئر عاطف حسین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں شعیب شیخ کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم حکام کو یہ ہدایت کی تھی کہ ملزم کو ہراساں نہ کیا جائے۔

ایف آئی اے کی کارروائی کے باعث ایگزیکٹ کمپنی کے مجوزہ نیوز چینل ’بول‘ کا منصوبہ بھی متاثر ہو رہا ہے، جس کی لانچنگ پہلی رمضان سے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں بول کے ملازمین اور صحافی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں