گدھے کی موت پر وزرا میں جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جام خان شورو کا کہنا ہے کہ ان کے حلقے میں واپڈا حکام کی لاپراہی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ایک گدھے کی موت پر وزیر مملکت بجلی و پانی عابد شیر علی اور صوبائی محکمہ مال مویشی جام خان شورو کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ہے۔

بھٹائی نگر تھانے کی حدود میں جاڑو پالاری نامی شخص نے اپنے گدھے کی موت کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ماروی ٹاؤن چوک پر گندے پانی میں بجلی کی ایک تار گری ہوئی تھی اور وہ اس پانی سے گذر رہے تھے کہ کرنٹ لگنے سے گدھا مر گیا جبکہ لکڑی کی گاڑی پر سوار ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔

مدعی کے مطابق واپڈا کے ذیلی ادارے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ’حیسکو‘ کے حکام کو تار گرنے کی اطلاع دی گئی تھی لیکن انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور لاپرواہی کے باعث اس کا گدھا مر گیا۔

حیدرآباد پولیس نے چیف انجینیئر حیسکو، ایس ڈی او، لائن سپرنٹڈنٹ اور میٹر ریڈر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی زیر دفعہ 429 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

صوبائی وزیر برائے محکمہ مال مویشی جام خان شورو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے حلقے میں واپڈا حکام کی لاپراہی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے گزشتہ سال ایسے ہی تار گرنے سے چار بچیاں ہلاک ہوگئی تھیں اور ایک ماہ قبل پی ایم ٹی گرنے سے ایک بچی جان گنوا بیٹھی لیکن حکام نے شکایت کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا۔

انہوں نے بتایا کہ کئی روز سے مین روڈ پر یہ تار ٹوٹی ہوئی تھی جس کی شکایت مقامی لوگوں کے علاوہ ان کے دفتر سے حیسکو حکام کو بھی کی گئی لیکن اس لائن کو درست نہیں کیا گیا اور نتیجے میں کرنٹ لگنے سے ایک غریب مزدور کا گدھا ہلاک ہوگیا۔

Image caption ’سندھ حکومت کا نام گینز بک آف ریکارڈ میں درج ہونا چاہیے‘

تمام افسران اور ملازمین نے مقامی عدالت سے ضمانت حاصل کرلی ہے۔ تاہم وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی ہنگامی طور پر حیدرآباد پہنچے جہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو وہ آ کر ان کے افسران کو گرفتار کرکے دکھائے۔

عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ اس ایف آئی آر کے اندراج پر سندھ حکومت کا نام گینز بک آف ریکارڈ میں درج ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی صوبائی وزیر جام خان شورو کے ایما پر کی گئی ہے جن کے علاقوں سے بجلی کی چوری ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف بیرون ملک دورے پر گئے ہوئے ہیں اور جب وہ واپس آئیں گے تو اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا۔

صوبائی وزیر جام خان شورو نے چوری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر حیسکو بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہو تو وہ ان کے ساتھ ہیں لیکن جو بل ادا کرتے ہیں ان کے ساتھ تو زیادتی نہ کی جائے۔‘

جام خان شورو نے بتایا کہ ان کے حلقے میں پانی کی 8 سکیموں کی بجلی منقطع ہے، اسی طرح پانچ سے زائد کالونیاں میں کئی روز سے بجلی نہیں حالانکہ حیسکو خود تحصیل میونسپل کارپوریشن قاسم آباد کی ڈیڑھ ارب کی مقروض ہے۔

اسی بارے میں