کراچی میں پولیس ایک بار پھر نشانہ، ڈی ایس پی ہلاک

Image caption کراچی پولیس کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران شہر میں 12 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا جن میں دو ڈی ایس پی بھی شامل تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں سائٹ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عبدالمجید عباسی ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح لانڈھی میں شاہ لطیف ٹاؤن کی حدود میں پیش آیا۔

ڈی آئی جی منیر شیخ کا کہنا ہے کہ عبدالمجید عباسی اپنی سرکاری گاڑی میں ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے انھیں نشانہ بنایا، اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ڈی ایس پی عباسی کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

جناح ہسپتال کی شعبۂ ہنگامی امداد کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے ڈی ایس پی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق مقتول کا تعلق خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن سے تھا۔

تاحال کسی تنظیم کی جانب سے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کے آغاز کے بعد سے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کراچی میں رواں برس ڈی ایس پی عبدالمجید سمیت 49 پولیس افسران اور اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔ گذشتہ ماہ کے دوران ہی نامعلوم افراد نے شہر میں ایک سابق جیل سپرنٹنڈنٹ اور دو ڈی ایس پیز سمیت 12 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک حملے کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس کارروائی میں پانچ مبینہ حملہ آور مارےگئے تھے۔

ان میں سے دو حملوں کی ذمہ داری شدت پسند کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان نے قبول کی تھی۔

کراچی میں رینجرز اور پولیس اہلکار شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں