ہنگو میں فرقہ پرستی کی بجائے سیاست غالب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان انتخابات سے کچھ علاقوں میں غیر متوقع طورپر مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں 30 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جہاں بدترین تشدد، بدنظمی اور دھاندلی کے واقعات پیش آئے وہاں ان انتخابات سے کچھ علاقوں میں غیر متوقع طورپر مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہے۔

ملک کے دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی کچھ مقامات پر انتخابات کے دوران بیشتر مواقعوں پر فرقہ واریت کا عنصر کسی نہ کسی حد تک کردار ادا کرتا رہا ہے۔اگرچہ حالیہ انتخابات میں بھی بعض اضلاع میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، تاہم صوبے کا ایک ضلع ایسا بھی ہے جہاں پہلے انتخابات میں فرقہ وارانہ عنصر ہمیشہ سے غالب رہا ہے لیکن حالیہ چناؤ میں اس عنصر نے بظاہر کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع ہنگو برسوں سے شعیہ سنی فسادات کے ضمن میں ہمیشہ سے حساس علاقہ رہا ہے۔ اس ضلعے میں 80 کی دہائی سے شروع ہونے والے بدترین فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔ دو تحصیلوں پر مشتمل اس ضلعے میں ہنگو تحصیل وہ واحد علاقہ ہے جہاں گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے الیکشن میں فرقہ واریت کا عنصر ہمیشہ سے غالب رہا ہے اور بیشتر مواقعوں پر امیدوار اس بنیاد پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔

تاہم حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ہنگو شہر میں فرقہ واریت کا عنصر کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کرسکا ہے بلکہ سیاسی اثر رسوخ والے امیدوار یا پارٹیوں کے نمائندہ افراد ہی جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہنگو میں پہلے ہونے والے انتخابات میں اکثر اوقات شہر میں ایک کیشدگی کی صورتحال رہتی تھی

دلچسپ امر یہ ہے کہ شہر کی دو یونین کونسلوں خانباڑی اور گنجانو کلی میں لوگ ہر انتخاب میں شیعہ سنی یا فرقہ کی بنیادوں پر ووٹ دیتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ وہاں حالات اس کے بالکل برعکس رہے۔

خانباڑی یونین کونسل میں عام طورپر اہل تشیع افراد کی اکثریت پائی جاتی ہے لیکن یہاں سے غیر متوقع طورپر عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سنی امیدوار عبد الشاہد اورکزئی ضلعی کونسل کی نشست پر جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس امیدوار کے مقابلے میں کسی شعیہ امیدوار نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔

اس کے ساتھ ساتھ گنجانو کلی یونین کونسل جو ہمیشہ سے اہل سنت و الجماعت یا سنیوں کا گڑہ رہی ہے اس مرتبہ وہاں سےحیران کن طورپر اہل تشیع فرقہ سے تعلق رکھنے والا امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوا ہے جسے ضلعی کی سیاست میں بڑی تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔

اس الیکشن میں شعیہ سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار ایک دوسرے کے علاقوں میں آزادانہ طورپر انتخابی مہم بھی چلاتے رہے ہیں جو ماضی میں اس علاقے میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

ہنگو کے باشندوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں مذہبی عنصر پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم رہا اور ایک اچھے ماحول میں انتخابی عمل کا اختتام ہوا۔

ہنگو میں پہلے ہونے والے انتخابات میں اکثر اوقات شہر میں ایک کیشدگی کی صورتحال رہتی تھی لیکن اس بار ایسا کوئی منظر دیکھنے میں نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہنگو میں تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے

ہنگو سے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی شاہ فیصل خان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد سے عمومی طور پر پورے صوبے میں مذہب یا فرقے کی بنیاد پر سیاست میں کمی آئی ہے۔

ضلع ہنگو کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہو رہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد یہاں پہلی مرتبہ حکمران جماعت تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے اور ضلعی نظامت کے لیے دونوں جماعتوں نے آپس میں اتحاد کرلیا ہے۔

تحریک انصاف کے ایم پی اے شاہ فیصل خان نے تصدیق کی کہ ضلعی نظامت کےلیے ان کی جماعت نے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار عبد الشاہد کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد صرف ایک ضلعے کی حد تک محدود ہے۔

شاہ فیصل خان کے مطابق ’ اے این پی بنیادی طورپر ہماری مخالف جماعت ہے لیکن ہم نے یہ فیصلہ صرف اور صرف ضلعے کی ترقی اور امن کی خاطر کیا ہے تاکہ یہاں پائیدار امن قائم رہے جس میں تمام فریقین کا فائدہ ہے ۔‘

ادھر ہنگو سے تعلق رکھنے والے اے این پی کے صوبائی رہنما حسین الحسینی نے بھی پی ٹی آئی اور اے این پی کے درمیان اتحاد کی تصدیق کی ہے۔

اسی بارے میں