’شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم کس نے دیا؟

Image caption صدر مملکت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے کراچی جیل حکام کو پھانسی روکنے سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ ایک بچے کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کس کے کہنے پر روکا گیا؟

شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد چوتھی بار موخر

’شفقت کی عمر کے تنازعے نے بظاہر پاکستان کو تقسیم کر دیا‘

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک کہتے ہیں کہ انھوں نے مجرم کی سزا پر عمل درآمد روکنے کے احکامات جاری نہیں کیے جبکہ وزارت داخلہ اور صدر مملکت کے دفتر سے بھی شفقت حسین کی پھانسی روکنے کے احکامات جاری نہیں کیے گئے۔

منگل روز حکومت کی طرف سے بھی اس ضمن میں ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔ یاد رہے کہ متعقلہ عدالت نے شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے دیے تھے جس کے مطابق مجرم کو نو جون کو کراچی کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔

ڈاکٹر طارق حسن نے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ ابھی تک مجرم شفقت حسین کی عمر کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا اس لیے مجرم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

سپریم کورٹ کی سپملینٹری کاز لسٹ میں اس درخواست کو شامل کیا گیا اور چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

Image caption سندھ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ بھی مجرم شفقت حسین کی دی جانے والی موت کی سزا کو برقرار رکھا ہے جبکہ صدر مملکت بھی ان کی رحم کی اپیل مسترد کر چکے ہیں

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انھیں میڈیا کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ مجرم شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی درخواست غیر موثر ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے تو شفقت حسین کی پھانسی روکنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ دس جون کو اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں گے۔

شفقت حسین کی پھانسی روکنے سے متعلق صدر مملکت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے کراچی جیل حکام کو پھانسی روکنے سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ضمن میں کوئی سمری صدر مملکت کو نہیں بھجوائی تھی۔

ایوان صدر کے اہلکار کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت وزارت داخلہ کی درخواست پر صولت مرزا اور شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے سے متعلق احکامات جاری کر چکے ہیں۔

شفقت حسین کی عمر کے تعین سے متعلق وزارت داخلہ نے وفاقی تحققیاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو ذمہ داری سونپی تھی جنھوں نے اپنی رپورٹ متعقلہ حکام کو بھجوا دی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجرم جرم سرزد کرتے وقت نابالغ نہیں بلکہ بالغ تھے۔

سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ نصرت منگھن کا کہنا ہے کہ جیل کے قوانین کے تحت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اختیار ہوتا ہے کہ اگر کسی قیدی کی درخواست عدالت سماعت کے لیے منظور کر لے تو اس سزا پر عمل درآمد روکا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل صدر مملکت وزارت داخلہ کی درخواست پر صولت مرزا اور شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے سے متعلق احکامات جاری کر چکے ہیں

فوجی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل انعام رحیم کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے تین افراد کی طرف سے ان سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور یہ درخواستیں سماعت کے لیے منظور بھی کر لی گئی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے وفاقی حکومت سے اس پر جواب طلب کیا تھا لیکن وفاق کا جواب آنے سے پہلے ہی اُنھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کا کہنا تھا کہ اس بارے میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام کا کہنا تھا کہ انھیں عدالت کی طرف سے ان سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کے احکامات نہیں ملے تھے اس لیے اُنھیں پھانسی دے دی گئی۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ بھی مجرم شفقت حسین کی دی جانے والی موت کی سزا کو برقرار رکھا ہے جبکہ صدر مملکت بھی ان کی رحم کی اپیل مسترد کر چکے ہیں۔

شفقت حسین کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی یہ کہہ کر درخواست مسترد کر دی تھی کہ مجرم کی عمر کا معاملہ ٹرائل کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک نہیں اُٹھایا گیا۔

کراچی کی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے شفقت حسین کی پھانسی روکنے سے متعلق اُن کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن وہ دستیاب نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں