خیبر پختونخوا میں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال

Image caption شہر میں عمومی طور پر ایسی کوئی صورت حال پیش نہیں آئی جس سے اندازہ ہو کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا ہو

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حزب اختلاف کی اپیل پر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے خلاف صوبہ میں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی اور بیشتر مقامات پر دکانیں کھلی رہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں بدھ کی صبح ہی سے شہر کے مختلف علاقوں سے چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے۔

جلوس کے شرکا جن علاقوں سےگزرتے رہے وہاں دکاندار اپنی دکانیں بند کرتے ہوئے دکھائی دیے تاہم مظاہرین کے جانے کے فوراً بعد تاجروں نے اپنی دکانیں کھول لیں۔

شہر کے کچھ مقامات پر مظاہرین کی جانب سے زبردستی دکانیں بند کرانے کے واقعات بھی پیش آئے تاہم عمومی طورپر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

سہ فریقی اتحاد میں شامل اپوزیشن جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علما اسلام ف اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے شہر کے کئی مقامات پر سڑکوں پر آ کر وقتی طورپر ٹریفک کو بند کیے رکھا جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک جام رہی۔

Image caption شہر میں بڑا جلوس اے این پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میاں افتخار حسین اور دیگر جماعتوں کے رہنماوں کی قیادت میں نکالا گیا جو قصہ خوانی بازار سے شروع ہوا اور مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا چوک یادگار پر جاکر اختتام پزیر ہوا

شہر میں بڑا جلوس اے این پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میاں افتخار حسین اور دیگر جماعتوں کے رہنماوں کی قیادت میں نکالا گیا جو قصہ خوانی بازار سے شروع ہوا اور مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا چوک یادگار پر جاکر اختتام پذیر ہوا۔

اس جلوس میں شہر کے دیگر چھوٹے جلوس بھی شامل ہوتے رہے۔ اس موقع پر مظاہرین نے صوبائی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

شہر میں عمومی طور پر ایسی کوئی صورت حال پیش نہیں آئی جس سے اندازہ ہو کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا ہو۔

جلوس میں شامل جمعیت علما اسلام ف کے صوبائی رہنما عبدالجلیل جان نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے علامتی شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنی تھی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے۔

انھوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کی جانب سے تاجروں سے کہا گیا تھا کہ وہ دوپہر دو بجے تک دکانیں بند رکھیں کیونکہ ہم ان کا کاروبار خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔

عبدالجلیل جان نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مستعفی نہیں ہو جاتی۔

دوسری جانب پشاور میں کئی تاجرتنظیموں کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی مخالف بھی کی گئی۔

پشاور کے علاقے چوک یادگار کے ایک تاجر ناصر خان نے کہا کہ شہر میں کافی عرصہ کے بعد امن قائم ہوا ہے اور ترقیاتی بھی کام ہو رہے ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کو اس پرامن ماحول میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ہڑتالوں اور احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اپوزیشن سہ فریقی اتحاد کو حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر بامعنی مذاکرات کرنے چاہییں۔

ادھر صوبے کے مختلف اضلاع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں کی کال پر مختلف علاقوں میں جزوی ہڑتال اور مظاہرے کیے گئے تاہم کسی بھی ضلع سے کسی بڑے مظاہرے کی اطلاع نہیں ملی۔

خیال رہے کہ 30 مئی کوخیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بدترین تشدد اور دھاندلی کے واقعات پیش آئے تھے۔

حکومت نے ان انتخابات کی تحقیقات ایک با اختیار جوڈیشل کمیشن سے کرانے اور صوبے میں دوبارہ انتخابات کی پیش کش کی تاہم سہ فریقی اتحاد نے حکومت کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ اور ان کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپوزیشن کے مطالبات کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ صورت حال ایک بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں