پاکستان میں پولیس فورس شدت پسندوں کے نشانے پر، چھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption یک ہفتے کے دوران پشتون آباد میں پولیس اہلکاروں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے

پاکستان کے مختلف علاقوں میں پولیس فورس پر شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے اور جمعرات کو پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے حملوں میں کم از کم چھ اہلکار ہلاک اور ڈپٹی کمانڈنٹ سمیت چھ ہی زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ہلاک ہونے والوں میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھی شامل ہے۔

دوسری جانب صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس موبائل پر ہونے والے خودکش حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈپٹی کمانڈنٹ فرنٹیئر ریزرو پولیس ملک طارق سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

دو دن پہلے ہی سندھ کے دارالحکومت کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں سائٹ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عبدالمجید عباسی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ شہر میں حکام کے مطابق رواں برس اب تک ڈی ایس پی عبدالمجید سمیت 49 پولیس افسران اور اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں سی سی پی او کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کو بتایا کہ پولیس کے چار اہلکار پشتون آباد کے علاقے میں معمول کےگشت پر تھے کہ اس دورن انھوں نے ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو مشکوک جان کر ان کا پیچھا کیا۔

انھوں نے بتایا کہ کچھ فاصلے پر موٹر سائیکل سواروں کے دو اور مسلح ساتھی بھی موجود تھے جنھوں نے پیچھا کرنے والے پولیس اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے اہلکار زخمی ہو گئے۔

عبد الرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ زخمی حالت میں بھی ایک پولیس اہلکار نے حملہ آوروں کو مارنے کی کوشش کی۔

سی سی پی کے مطابق ان اہلکاروں میں سے تین شدید زخمی ہونے کے باعث جائے وقوع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ چوتھے اہلکار نے ہسپتال پہنچنے سے پہلے راستے میں دم توڑ دیا۔

واقعے کے بعد پولیس اور قانون ناٖفذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد علاقے میں پہنچ گئی اور ملزمان کی تلاش کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے کے دوران پشتون آباد میں پولیس اہلکاروں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل چھ جون کو پشتون آباد کے ملاسلام چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بھی ایک سب انسپکٹر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

چھ جون کو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد شہر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے، جس کے بعد شہر میں ایک مرتبہ پھر ایک ہفتے کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے علاوہ مردوں کے نقاب اوڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

پشاور میں فرنٹیئر ریزرو پولیس

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس موبائل پر ہونے والے خودکش حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈپٹی کمانڈنٹ فرنٹیئر ریزرو پولیس ملک طارق سمیت چھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

پشاور کے علاقے حیات آباد تھانے کے ایس ایچ او نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ صبح نو بجے موٹر سائیکل پر سوار خود کش حملہ آور نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمانڈنٹ ایف آر پی ملک طارق اور دیگر زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں طبی امداد دی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں دو کانسٹیبل ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں