’شمالی وزیرستان میں فوج کی کارروائی، دس شدت پسند ہلاک‘

Image caption پاکستانی فوج نے 15 جون 2014 کو آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا

پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی شب شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقے میں موجود شدت پسندوں کو گھیرے میں لیا گیا اور کارروائی کے دوران دس شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

دتہ خیل میں زمینی کارروائی شروع

جمعرات کو پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا بیان جاری کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کے دروان شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل سے ذرا آگے افغانستان کے ساتھ متصل پاکستانی سرحد میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال فوج کی طرف سے عسکری تنظیموں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کو ایک سال پورا ہونے والا ہے۔

فوج کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں ایجنسی کے90 فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔

حکام نے چند ہفتے قبل شمالی وزیرستان کیمتاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا تاہم بہت سے علاقوں کے مکین اب تک گھروں کو نہیں لوٹ سکے۔ متاثرین نے گھروں کو واپسی میں تاخیر پر احتجاج بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں