’پھانسیوں پر تشویش، تجارتی مراعات کے لیے قوانین کا احترام کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی حکومت نے گذشتہ برس دسمبر میں سزائے موت پر پچھلے چھ برس سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا

یورپی یونین نے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی منڈیوں میں تجارتی مراعات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان بین الاقوامی کنونشنز کی پابندی کرے۔

برسلز میں یورپی یونین کے دفتر سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں پھانسی پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک 150 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے اور پھانسیوں پر عمل درآمد سے پاکستان انسانی حقوق کی پاسداری کے لحاظ سے بہت پیچھے چلا گیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کا پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ

پاکستان میں پانچ ماہ میں 135 پھانسیاں

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دسمبر 2014 میں طالبان کے بہیمانہ حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر سنہ 2008 سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یورپی یونین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو سزائے موت کے منتظر قیدی آفتاب بابر کو پھانسی دی گئی حالانکہ جرم کے ارتکاب اور اقرار کے وقت ملزم نابالغ تھا۔

یورپی یونین کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سزائے موت کے متنظر ایک اور قیدی شفقت حسین کی پھانسی روکنے کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ شفقت حسین کو جس جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے، اُس کا ارتکاب اور اقرار بھی اُس وقت کیا گیا جب وہ کم عمر تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران شفقت حسین پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ملکی اور غیر ملکی قوانین کے تحت پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ 18 سال سے کم عمر ملزموں کو سزائے موت نہ دے اور ایسے مقدمات جس میں تشدد کے ذریعے جرم قبول کروانے کا شبہ ہو، ان کی غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائیں۔‘

یورپی یونین نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین کے جی ایس پی پلس ریگولیشن (تجارتی مراعات) کے تحت بین الاقوامی کنونشن پر موثر عمل درآمد بہت ضروری ہے۔‘

یاد رہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ٹیکسٹائل مصنوعات کی یورپی منڈیوں میں فروخت کے لیے مراعاتی پیکج دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کویکم جنوری 2014 سے جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدت میں دو ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ ہو گا۔

یورپی یونین ہر طرح کے مقدمات میں سزائے موت کے خلاف ہے اور عالمی سطح پر سزائے موت دیے جانے کے خلاف آواز اُٹھا رہی ہے۔

یورپی یونین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سزائے موت کے عمل درآمد پر عائد پابندی بحال کرے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔

اسی بارے میں