پنجاب کا 14 کھرب، 47 ارب روپے کا بجٹ پیش

پاکستان کے صوبے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر خزانہ عائشہ غوث نے مالی سال 16- 2015 کا 14 کھرب، 47 ارب، 24 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔

پنجاب اسمبلی میں جمعے کو پیش ہونے والے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا۔

سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔

وزیرِ اعلی شہباز شریف بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہوئے تاہم اپوزیشن ارکان احتجاجاً سیاہ پٹیاں باندھ کر آئے اور بجٹ تقریر کے دوران ’گو نواز گو‘ اور ’جھوٹے جھوٹے‘ کے نعرے مسلسل لگاتے رہے۔

پنجاب کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 410 ارب روپے، تعلیم کے لیے 310 ارب، 20 کروڑ، صحت کے لیے 186 ارب، 27 کروڑ، زراعت کے لیے 144 ارب، 39 کروڑ اور امنِ عامہ کے لیے 110 ارب، 70 کروڈ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرِ خزانہ عائشہ غوث کا کہنا تھا کہ مالی سال 16-2015 کی کل آمدن کا تخمینہ 1,447 ارب، 34 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں 880 ارب 50 کروڑ روپے این ایف سی ایوارڈ سے حاصل ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے براہ راست 31 ارب چار کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے جبکہ صوبائی محصولات سے 256 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔

عائشہ غوث کا کہنا تھا کہ پنجاب سے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تحت مجموعی طور پر 618 ارب روپے کےمنصوبے زیر تکمیل ہیں جن میں پنجاب حکومت 258 ارب روپے جبکہ چین کی حکومت 660 ارب کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ، بہاولپور میں قائداعظم سولر پارک کی توسیع اور پنڈ دادنخان میں کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے شامل ہیں جبکہ ضلع شیخوپورہ میں گیس سے بجلی بنانے کے لیے 110 ارب کی لاگت کا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے جس کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ میں معدنی ذخائر سے استفادہ کرنے کے لیے دو ارب، 17 کروڑ رکھے گئے ہیں جبکہ فارم ٹو مارکیٹ روڈز کی تعمیر توسیع اور مرمت کا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس کی کل لاگت تو 150 ارب ہے لیکن اس بجٹ میں اس کے لیے 52 ارب کی رقم رکھی گئی ہے۔ ڈرپ اررگیشن اور کھالوں کی تعمیرو مرمت پر چار ارب، 98 کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بجٹ میں 25,000 چھوٹے کاشتکاروں کو سستے ٹریکٹر دینے کے لیے پانچ ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ آبپاشی کے نظام کی بہتری کے لیے 50ارب، 83 کروڑ لائیو سٹاک کے لیے آٹھ ارب، 59 کروڑ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیےگیارہ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

پنجاب کے کئی اضلاع میں 80 کروڑ روپے کی لاگت سے ماڈل مویشی منڈیاں بنائی جائیں گی۔

آٹھ اضلاع میں ہیلتھ انشورنس سکیم کے اجرا کے لیے دو ارب، 50 کروڑ موبائل ہیلتھ یونٹس کے لیے ایک ارب روپے اور جگر کی پیوندکاری کے لیے جدید ہسپتال بنانے کے لیے تین ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے صوبے میں 80 پولیس سروس سینڑوں کے قیام کا اعلان کیا۔ پولیس کی تربیت اور جدید سامان کی فراہمی کے لیے 94 ارب، 67 کروڑ روپے عدالتوں کے لیے 18 ارب روپے اور خواتین کی بہبود کے لیے 32 ارب، 16 کروڑ روپے کے بجٹ کا اعلان کیا گیا۔

2015-16 کے بجٹ میں کم سے کم تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 13 ہزار کرنے اور انٹرنیٹ پر حال ہی میں لگایا گیا 19.5 فیصد ٹیکس واپس لینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

بجٹ تقریر کے دوران عائشہ غوث کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے سنہ 2018 تک معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے جامع معاشی حکمت عملی مرتب کی ہے جس کے تحت صوبے میں ترقی کی سالانہ شرح کو سات سے آّٹھ فیصد تک لے جانے، برآمدات میں 15 فیصد اضافے اور دس لاکھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ہدف مقرر کیے گئے ہیں۔