سندھ کا سات کھرب روپےکی مالیت کا بجٹ پيش

تصویر کے کاپی رائٹ

سندھ کا آئندہ مالی سال کا سات کھرب انتاليس ارب روپے مالیت کا بجٹ پيش کرديا گیا ہے، جس میں بارہ ارب روپے کا خسارہ شامل ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے سنیچر کو اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 214 ارب مختص کیے ہیں، جن میں 177 ارب رپے صوبائی حکومت، ساڑہ 9 ارب رپے وفاقی حکومت گرانٹ فراہم کرے گی جبکہ 27 ارب غیر ملکی معاونت سے حاصل کیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت آئندہ مالی سال میں بڑی تعداد میں نئے منصوبوں متعارف نہیں کراسکے گی۔ صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں سے اسی فیصد رقم پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں جبکہ بیس فیصد رقم نئے منصوبوں کے لیے مختص کی جائیگی۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 142 ارب سے زائد رقم مختص کي گئي ہے، جس میں طبی اور تیکینکی تعلیم کی بجٹ میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سکولوں کے بہتر انتظام کے لیے 1448 نئی آسامياں پیدا کی جائیں گی جبکہ موجودہ سکولوں اور کالجوں ميں 300 آئي سي ٹي اکيڈميز قائم ہوں گی۔

صحت کے شعبے میں 37 فیصد اضافہ کے ساتھ 57 ارب رپے مختص کیےگئے ہیں، پسماندہ علاقوں میں ضلعی و تحصیل ہپستالوں میں سرجن اور سپیلشسٹ ڈاکٹروں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کانٹریکٹ پر بھرتیوں کے لیے 500 ملین رپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح طبی مشنری اور آلات کی خریداری کے لیے بھی 500 ملین رپے کا اعلان کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے بجٹ میں بھی دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اضافی رقم سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں نیا عملہ بھی بھرتی کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس میں دس ہزار اہلکار بھرتی ہوں گے جبکہ سندھ پوليس کو جديد خطوط پر استوار کرنے کے لئے سيکورٹی آلات، بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیوں ، جيکٹس، ہيلمٹس اسلحہ جات اور کلوز سرکٹ کيمرہ ٹي وي کي تنصيب کے لئے چار ارب گيارہ کروڑ روپے رکھے گئے ہيں۔

توانائی کے شعبے کے لیے 25 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے جس میں ایک خطیر رقم بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بقایا جاتا کی مد میں ادا کی جائیگی جبکہ ساڑہ 16 ارب ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہوں گے۔ نئے منصوبوں کے میں شہید بینظیر آباد، سکھر، جام شورو، ٹھٹہ اور لاڑکانہ میں ،20 20 میگا واٹ شمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

بجٹ کے مطابق صوبائي ملازمين کي تنخواہوں ميں دس فيصد اضافہ اور نجي شعبے ميں کم از کم تنخواہ تيرہ ہزار روپے مقرر کي گئي ہے۔ پي ايچ ڈي کي ڈگري یافتہ اساتذہ اور افسران کو دس ہزار روپے ماہانہ الاؤنس ديا جائے گا۔

صوبے ميں آبپاشي منصوبوں کے لئے سترہ ارب اڑسٹھ کروڑ،محکمہ زراعت کے لئے پانچ ارب اڑتاليس کروڑ ، بلديات کے لئے باون ارب پينتاليس کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ ترقي نسواں کے لئے 91 کروڑ،اقليتوں کے لئے پانچ کروڑسے زائد رقم رکھي گئي۔ اسی طرح سماجي بہبود کيلئے دو کروڑ دس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے ٹريول ايجنٹس پر دس فيصد ٹيکس، کميشن ايجنٹس پر چودہ فيصد، قلمي ناموں سے لکھنے والوں پر چودہ فيصد ٹيکس ، مريضوں کي تشخيصي ٹيسٹ اور يوٹيلٹي بلوں پر چودہ فيصد ٹيکس، تعميراتي کاموں پر6 سے 14 فیصد ، جائیداد سے حاصل ہونے والے کرائے پر 6 فيصد ٹيکس نافذ کیا ہے۔

اسی بارے میں