’ضربِ عضب دہشتگردی کے خاتمے کے حکومتی عزم کا مظہر‘

Image caption فوجی آپریشن کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کی ’امارت‘ سمجھے جانے والے شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں سے خالی کروایا گیا ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب دہشتگردی کے خاتمے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر اتوار کی شب جاری کیے گئے پیغام میں وزیرِ اعظم نے اس آپریشن پر قوم اور خصوصاً پاکستانی فوج کو مبارک باد دی۔

بیان میں وزیرِ اعظم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ان کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دینے والوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان دہشتگردی کے خاتمے میں کامیاب رہا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم ان لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے جو اس خطرناک محاذ پر لڑ کر قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا حال قربان کر رہے ہیں۔

ادھر ملک کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے خلاف متعدد اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک برس کے دوران کارروائیوں میں 2763 شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ ساڑھے تین سو کے قریب فوجی افسر اور جوان بھی ہلاک ہوئے ہیں

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں گذشتہ برس 15 جون کو شدت پسندوں کے خلاف ضربِ عضب کے نام سے کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج نے اسآپریشن کے بارے میں اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق ایک برس کے دوران کارروائیوں میں 2763 شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ ساڑھے تین سو کے قریب فوجی افسر اور جوان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

حال ہی میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ یہ آپریشن کامیاب رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے بعد شہری علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑے بڑے حملوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کی ’امارت‘ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان کو تو شدت پسندوں سے خالی کروالیا گیا ہے تاہم بیشتر طالبان تنظیموں کی قیادت بدستور محفوظ ہے۔

اسی بارے میں