’پاکستان کے جنگی جہاز جے ایف 17 کی فروخت کا معاہدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ جے ایف 17 امریکی ایف 16 کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر سستا ہے

پاکستانی فضائیہ کے مطابق چین کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے جنگی طیارے جے ایف 17 کی اس سال کے پیرس ائیر شو میں فروخت کا ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا ہے۔

پاکستان فضائیہ میں جے ایف 17 پروگرام کے چیف پروجیکٹ ڈائریکٹر ایئر وائس مارشل ارشد ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جے ایف 17 کی جوائنٹ سیلز اور مارکٹنگ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ایک معاہدہ بہت عرصے سے مکمل ہو چکا تھا تاہم اس کی تفصیلات جیسے کہ طیاروں کو گاہک ملک کے حوالے کرنے کا وقت اور دیگر تکنیکی مدد کے عمل، کو اس ائیر شو میں حتمی شکل دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسی پلیٹ فارم کے حوالے سے پاکستانی فضائیہ اور چینی کمپنی کیٹک کی مدد سے کئی ممالک کے ساتھ طیاروں کی فروخت کے لیے مذاکرات جاری تھے جن میں مختلف ایشیائی، افریقی اور عرب ممالک شامل ہیں۔

ایئر وائس مارشل ارشد ملک نے طیاروں کی تعداد، قیمت یا خریدنے والے ملک کا نام تو ظاہر نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام تفصیلات جلد ہی ظاہر کر دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک ’دوست ملک‘ کے ساتھ یہ معاہدہ طے ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس ایئر شو میں جے ایف 17 طیارہ اپنح صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے

پاکستانی فضائیہ نے پیرس ایئر شو میں تین جے ایف 17 طیارے پیش کیے ہیں جہاں 44 ممالک کے مختلف نمائندے موجود ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس طیارے میں کیا خصوصیات ہیں، ارشد ملک نے بتایا کہ جے ایف 17 میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جو کہ ایک جدید لڑاکا طیارے میں ہوتی ہیں۔

’جدید لڑاکا طیاروں میں ایویئونکس پر انحصار ہوتا ہے اور اس طیارے میں دنیا کی جدید ترین ایویئونکس موجود ہیں جو کہ کسی بھی فورتھ جنریشن طیارے کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ روایتی ہتھیاروں کے علاوہ حال ہی میں اس طیارے میں ایک جدید میزائل بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ سمندر میں کسی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس طیارے کے فوائد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی دیکھ بھال کا عمل قدرے کم خرچ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جے ایف طیاروں کے ساتھ ایئر شو میں شامل پاکستانی فضائیہ کے پائلٹس

جی ایف 17 مقامی طور پر چین کی شراکت کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ یہ کم وزن کا لڑاکا طیارہ ہے جو کہ 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کی تیز ترین رفتار 2.0 ماک یعنی آواز کی رفتار سے دو گنا تک ہے۔

ایئر وائس مارشل ارشد ملک نے مزید بتایا کہ یہ معاہدہ صرف طیاروں کی فروخت کا نہیں بلکہ اس میں تکنیکی امداد اور تربیت کا ایک مکمل پیکج شامل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہ خبر درست نہیں کہ پیرس ایئر شو میں اسی افراد اس طیارے کی تشہیر کے لیے گئے ہوئے ہیں بلکہ یہ تعداد تین یا چار افراد کی ہے جو کہ چینی ماہرین کی مدد سے اس طیارے کی فروخت کے لیے کوشاں ہیں۔

اسی بارے میں