مذاکرات بھارتی شرائط پر نہیں کریں گے: سرتاج عزیز

Image caption جب تک کشمیر اور پانی کامسئلہ مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا: سرتاج عزیز

پاکستان نے کہا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ دوستی نہیں ہو سکتی تب بھی پاکستان اس سے اچھے تعلقات کی خواہش رکھتا ہے تاہم دو طرفہ مذاکرات صرف بھارت کے من پسند امور پر نہیں کیے جائیں گے۔

’پاکستانی سالمیت پر بھارتی حملے کے خلاف قرارداد‘

منہ توڑ جواب دیں گے

یہ بات پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں سارک ممالک کے تعلیمی امور سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہی۔

انھوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ عرصے میں دیے جانے والے دھمکی آمیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نوٹس میں لایا جائے گا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، مشکلات کا حل مذاکرات میں ہی ہوتا ہے۔

’ظاہر ہے کہ ہم مذاکرات بھارت کی شرائط پر نہیں کریں گے بلکہ ان تمام ایشوز پر کریں گے جو دونوں ممالک کا مشترکہ ایجینڈا ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب تک کشمیر اور پانی کامسئلہ مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انھوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ بھارت اور کشمیر کے انتخابات میں ووٹ لینے کے لیے پاکستان مخالف بیان بازی اور انداز اختیار کیا گیا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر واقعی بھارت بیانات کے پیچھے ویسی ہی سوچ بھی موجود ہے تو پھر یہ کافی تشویشناک بات ہے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ بین الاقوامی برادری کو موجودہ صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ سکیورٹی کو خدشہ پیدا نہ ہو۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی۔ اس کے علاوہ مودی حکومت میں شامل ایک وزیر نے برمی سرحد کے اندر بھارتی فوج کی کارروائی کو پاکستان سمیت ان دوسرے ممالک کے لیے ایک پیغام قرار دیا تھا جہاں بھارت مخالف شدت پسند نظریات والے لوگ بستے ہیں۔

ان بیانات پر پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں