خواجہ آصف کا بیان دو قومی نظریے کی توہین ہے: ایم کیو ایم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متحدہ قومی موومنٹ نے خواجہ آصف کے بیان پر احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ دو قومی نظریے اور تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی توہین ہے۔

قومی اسمبلی میں پیر کو آرمی آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد کے دوران ایم کیو ایم نے اعتراض کیا تھا، جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’آرمی ایکٹ میں ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی اب انھیں خطرہ ہے کہ ان کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھے گا، اس لیے یہ مخالفت کر رہے ہیں۔‘ جس پر ایم کیو ایم کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے منگل کو کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ انھیں آرمی ایکٹ کی توسیع اور مواد پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ ان کا اختلاف اصولی تھا کیونکہ یہ طے تھا کہ بجٹ اجلاس کے دوران کوئی بحث نہیں ہوتی، ان کے آئینی اور قانونی جواز کو ایسے پیش کیا گیا گویا کہ ہم آرمی آرڈیننس کی توسیع کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم نے خواجہ آصف کے سما ٹی وی پر اس انٹرویو پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کے شہر سیالکوٹ سے زیادہ مہاجر کہیں نہیں جو جموں سے ایک لاکھ شہادتیں دے کر آئے تھے، یہ جالندھر اور لدھیانہ کے مہاجر ہیں جنھوں نے آگ وخون کا دریا عبور کیا۔ وہ اپنے آپ کو مہاجر نہیں بلکہ پاکستانی کہتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے خواجہ آصف کے اس بیان پر ایک بار پھر پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے یہ کہہ کر اصل مہاجر جالندھر اور لدھیانہ والے ہیں دوسروں کی قربانیوں پر لائن کھینچ دی ہے۔ وہ 37 برسوں سے جدوجہد کرکے مسلم اقلیتی صوبوں سے آنےوالے مہاجروں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب بہت ہوچکا۔

متحدہ قومی موومنٹ نے خواجہ آصف کے بیان پر احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ سندھ اسمبلی میں ایک مذمتی قرارداد بھی جمع کرائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے خواجہ آصف کے بیان پر ایک بار پھر پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کردیا

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کا رویہ سیاسی اختلاف والا نہیں تھا، پوری مہاجر کمیونٹی اور مہاجر قوم کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی گئی وہ نفرت انگیز اور متعصبانہ تھی اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مہاجر قوم کی دل آزاری ہوئی اور یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی تذلیل کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے یہ تاثر دیا ہے کہ جالندھر اور لدھیانے سے آنے والے اصلی ہیں باقی سب جعلی مہاجر ہیں یہ خیال تعصب پرستی کی عکاسی ہے کرتا ہے ۔

’اگرمسلم لیگ کا ایک وزیر یہ زبان استعمال کرتا ہے جو پاکستان میں بسنے والے مہاجروں کی دل آزاری کا باعث بنے اور مہاجروں کی تقسیم کا باعث بنے یہ جملہ دراصل تحریک قیام پاکستان کی نفی ہے۔ پاکستان کے وجود اور دو قومی نظریے کی نفی ہے۔‘

ڈاکٹر فاورق ستار کا کہنا تھا کہ اردو بولنے ، میمن اور گجراتی لوگوں کو عندیہ دیا جائے کہ وہ نقلی مہاجر ہیں، انھوں نے پاکستان کے قیام کے لیے کوئی قربانی نہیں دی۔ پانچ کروڑ مہاجروں کو سوچنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ آج اردو بولنے والوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے ، ان کی قربانیوں کو مسترد کیا جارہا یہ وقت بھی آسکتا ہے مشرقی پاکستان سے آنے والے ساتھ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں