’دہشت گردی کے خلاف قومی پلان اور پھانسیاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دہشت گردی کے واقعات میں تختہ دار پر لٹکائے جانے والے کُل پھانسیوں کا محض 13.6 فیصد ہے

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے گذشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔

ابتدائی طور پر یہ پابندی صرف ان سزائے موت پر سے اٹھائی گئی تھی جو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں یہ پابندی تمام پھانسیوں کی سزاؤں سے اٹھا لی گئی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق سزائے موت پر عائد پابندی ختم ہونے کے چھ ماہ میں حکومت نے 168 مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا ہے۔

پاکستان کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر مجرموں کی تعداد حکومت پاکستان نے اب تک جاری نہیں کی ہے۔

تاہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت کل 8500 کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

ان چھ ماہ میں حکومت نے ایک ہی دن میں 10 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور سرکاری اعداد شمار کے مطابق 168 سزائے موت کی سزا پر عملدرآمد میں صرف 23 افراد ایسے تھے جن کو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے پر سزائے موت ملی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ دہشت گردی کے واقعات میں تختہ دار پر لٹکائے جانے والے کُل پھانسیوں کا محض 13.6 فیصد ہے۔

ان پھانسیوں میں سے دس افراد کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے دس مجرمان شامل ہیں جبکہ 10 افراد وزارت دفاع کے اہلکاروں پر قتل، پولیس اہلکاروں کے قتل اور فرقہ وارانہ قتل میں ملوث تھے۔

اس کے علاوہ تین مجرمان ایسے ہیں جن کو 1998 میں پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔

اس حوالے سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خیال میں پھانسیاں دی جانا دہشت گردی کو روکنے میں مدد دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

’لیکن ان پھانسیوں کے بعد بھی اگر آپ بڑے بڑے واقعات دیکھیں تو اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پھانسیاں دینا کوئی ڈیٹیرنٹ (deterent) نہیں ہے۔ اس کے بعد شکارپور، پشاور اور راولپنڈی میں امام بارگاہوں پر حملہ ہو چکا ہے، کراچی میں اسماعیلی برادری پر صفورا گوٹھ پر حملہ ہوا۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ جاری ہے جس میں کراچی کے ایک پروفیسر اور سبین محمود شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت جس بات کی ضرورت تھی وہ تھی عدالتی اور پراسیکیوشن کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔

’ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے 65 فیصد کیسوں میں پراسیکیوشن کمزور ہونے کے باعث ملزمان کو بری کردیا جاتا ہے۔‘

نیشنل ایکشن پلان کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد کرنے میں دی جانے والی پھانسیوں میں 23 پھانسیوں کے علاوہ 145 پھانسیاں ایسی ہیں جو شدت پسندی کے کیس نہیں تھے۔

زہرہ یوسف نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف نے الیکشن کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ پھانسیوں پر عائد پابندی اٹھا دیں گے۔

’میرے خیال میں نواز شریف نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ایسی صورت میں بین الاقوامی دباؤ بڑھ جاتا۔ لیکن پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے نے سب تبدیل کردیا۔‘

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سزائے موت پر عملدرآمد روک بھی دیا جائے تو بھی یہ سزا ہمارے قانون میں تو رہے گی؟

Image caption پشاور میں بچوں کے سکول پر طالبان کے حملے کے بعد پھانسی دینے پر پابندی ختم کی گئی

اس سوال پر انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس میں ایک قانونی مشیر ریما عمر کا کہنا ہے کہ دنیا میں کم از کم 30 ایسے ممالک ہیں جہاں پر قانونی طور پر سزائے موت دی جا سکتی ہے تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔

’اقوام متحدہ نے کئی مرتبہ کئی ممالک کو کہا ہے کہ وہ سزائے موت پر پابندی لگا دے اور ان جرائم کی تعداد کم کر دی جائے جن میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔‘

ریما عمر نے کہا کہ ’چنانچہ یہ ممکن ہے کہ سزائے موت کو روک دیا جائے چاہے وہ قانون کا حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے لیے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔‘

جب ریما عمر سے یہ سوال کیا گیا کہ سزائے موت کے عملدرآمد پر پابندی لگا دی جائے تو ان 8000 افراد کا کیا ہو گا جن کو پہلے ہی سے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی سطح پر کال کوٹھڑی میں گزارا گیا وقت اور اس سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو تشدد اور ظالمانہ رویے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔`

صدرِ پاکستان کے پاس سزائے موت کو ختم کرنے کا اختیار ہے مگر بدقسمتی سے اس اختیار کو کم استعمال کیا جاتا ہے۔

’صدرِ پاکستان کے پاس آرٹیکل 45 کے تحت یہ اختیار ہے کہ وہ سزائے موت کو ختم کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت سزائے موت کے عملدرآمد پر پابندی لگا دیتی ہے تو صدر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سزائے موت پانے والے تمام مجرموں کی سزائیں بدل دیں۔‘

اسی بارے میں