پاکستان میں ایک اور عورت ونی کی بھینٹ چڑھ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ SPA
Image caption ونی کے تحت کی جانے والی شادیوں میں اکثر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا پھر قتل کردیا جاتا ہے

پنجاب کے جنوبی ضلع لیہ کے علاقے کوٹ سلطان میں ونی کا شکار ایک خاتون کو اس کے شوہر نے مبینہ طور پر تشدد کر کے قتل کر دیا ہے۔

حطاں بی بی کی شادی عبدالمجید نامی شخص سے تین سال پہلے پنچائیت کے فیصلے پر اس وقت ہوئی جب عبدالمجید کی بہن نے حطاں بی بی کے بھائی کے ساتھ گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی۔ پنچائیت نے مقامی رسم ’ونی‘ کے مطابق سزا کے طور پر حطاں بی بی کی شادی عبدالمجید سے کرنے کا حکم دیا تھا۔

ونی کی رسم جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں رائج ہے جس کے تحت خاندانی دشمنیوں اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کے لیے خواتین اور کبھی تو کم عمر بچیوں کو نکاح میں دوسرے فریق کے حوالے کردیا جاتا ہے۔

جہاں انھیں عمر بھر اپنے خاندان کی دشمنی کا بدلہ چکانا پڑتا ہے۔ اکثر ایسی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا پھر قتل کردیا جاتا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق عبدالمجید نامی شخص دوسری شادی کرنا چاہتا تھا اور اسی بات پر اس کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا تھا جو اسے دوسری شادی کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔

جھگڑے کے دوران عبدالمجید نے اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا، مارا پیٹا اور پھر اس کی گردن کے اردگرد کپڑا باندھ کر اسے درخت سے لٹکا دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عبدالمجید نے اس واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوششیں کی اور اس کی اطلاع خود تھانے کو دی۔ تاہم تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ حطاں بی بی نے خودکشی نہیں کی بلکہ اس کو قتل کیا گیا ہے۔

عبدالمجید کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ دوران تفتیش عبدالمجید نے حطاں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

واضع رہے کہ پاکستان میں ونی کو غیرقانونی قرار دیا جاچکا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ونی کے معاملے پر آواز بلند کرتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ملک کے مختلف حصوں میں یہ رسم جاری ہے۔

اسی بارے میں