’ہماری کردار کشی نہ رکی تو پھر یہ سلسلہ دور تک جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ملک کی فوج ہماری فوج ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتی‘

پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر اُنھیں دیوار سے لگانے اور ان کی کردار کشی کرنے کی روش ترک نہ کی گئی تو وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ وہ (فوجی جرنیل) وضاحتیں دیتے پھریں گے۔

منگل کے روز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے پارٹی عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ مشرقی سرحد پر بھارت دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ کالعدم تنظیموں میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔

’اسٹیبلشمنٹ کی ناسمجھی سے جہاد ملک بھر میں پھیل گیا‘

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی اسی خفیہ ادارے نے بلوچ سرداروں کے بچوں کو سامنے رکھ کر کارروائیاں کی ہیں جبکہ ایسے حالات میں ان کی جماعت ملکی اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتی۔

آصف علی زرداری نے فوجی قیادت کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ تو تین سال کے لیے آئے ہیں اور پھر چلے جائیں گے جبکہ اُنھوں (سیاست دانوں) نے ساری عمر پاکستان میں رہنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہماری کردار کشی کا سلسلہ نہ روکا تو پھر یہ سلسلہ دور تک جائے گا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کی فوج ہماری فوج ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتی۔

اُنھوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے ہڑتال کی کال دی تو خیبر سے لے کر کراچی تک جام ہو جائے گا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ جب بےنظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو اس وقت بھی اُنھوں نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا تھا۔

اُنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنھیں پاکستان کو درپیش خطرات کے بارے میں علم نہیں ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ’میں پانچ سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا جبکہ کمانڈو (مشرف) تین ماہ بھی جیل میں رہنے کو تیار نہیں ہے۔‘

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اگر اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گذشتہ سال استعفے دے دیتی تو ملک میں گذشتہ سال ہی انتخابات ہو جاتے لیکن اُنھوں نے جمہوریت کے فروغ کے لیے ایسا نہیں کیا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آصف علی زرداری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اپنی جماعت کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کے لیے اہم قومی ادارے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ قومی ادارے کو ایسے وقت میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب اس کے نوجوان پاکستان کی بقا کی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کی وجہ کوئی ادارہ نہیں بلکہ ان کی سابقہ حکومت کی کارکردگی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے طرزِ سیاست سے قومی تشخص اور اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے

--------------------------------------------------------

نوٹ: بی بی سی کے ایک قاری کی نشاندہی پر کہانی میں موجود غلطی کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ ادارہ اس غلطی پر معذرت خواہ اور تصحیح کروانے کے لیے شکرگزار ہے۔

اسی بارے میں