’ہائی پروفائل قتل‘ کے مقدمے مطلوب دو افراد سرحد سے گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف سی کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمان نے بتایا ہے کہ دونوں کا تعلق کراچی کی ایک سیاسی جماعت سے ہے

بلوچستان میں فرنٹیئر فورس نے پاک افغان سرحد سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کا تعلق ایک اہم سیاسی جماعت سے ہے اور وہ ایک ہائی پروفائل قتل کیس میں مطلوب ہیں۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق دونوں کو چمن کے قریب پاک افغان سرحدی علاقے آدھا کول سے حراست میں لیاگیا ہے اور ان کی شناخت خالد شمیم اور محسن علی کے نام سے کی گئی ہے۔

ایف سی کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمان نے بتایا ہے کہ دونوں کا تعلق کراچی کی ایک سیاسی جماعت سے ہے۔

مزید تحقیقات کے لیے دونوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حوالے کر دیاگیا ہے۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں افراد بیرون ملک ایک ہائی پروفائل قتل کیس میں بھی ملوث ہیں۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ خالد شمیم اور محسن کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کی بدھ کے روز گرفتاری کے دعوے میں صداقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان دونوں افراد کے بارے میں گزشتہ چار سالوں سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں گرفتار کیا جاچکا ہے اور وہ’ کسی ادارے‘ کی تحویل میں ہیں لیکن ان کی گرفتاری آج ظاہر کی گئی ہے۔

دریں اثنا خالد شمیم کی بیگم بینا شمیم نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کا ایم کیو ایم سے تنظیمی تعلق نہیں رہا ہے۔

بینا شمیم نے کہا کہ ان کے شوہر کبھی بھی سری لنکا یا لندن نہیں گئے اور انھیں 6 جنوری 2011 کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ ملیر کینٹ سے آرمی پبلک سکول جا رہے تھے۔

بینا شمیم کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر واٹر بورڈ میں سترہ گریڈ کے افسر تھے۔

خالد شمیم کی مبینہ گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی زیر سماعت ہے جہاں پولیس سمیت تمام ادارے یہ موقف اختیار کرچکے ہیں کہ خالد شمیم ان کی حراست میں نہیں ہیں۔

اسی بارے میں