کراچی میں’رینجرز کا چھاپہ، سنی تحریک کے 12 ارکان گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مذہبی تنظیم سنی تحریک کا کہنا ہے کہ رینجرز نے کراچی میں تنظیم کے مرکزی دفتر سے 12 رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔

تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ رینجرز نے یہ کارروائی بدھ کی شب کی تاہم رینجرز کی جانب سے اس حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

’اپنے دائرۂ اختیار میں رہیں:‘ ڈی جی رینجرز کو وزیراعلیٰ کی چٹھی

سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت رینجرز کے اہلکار بابائے اردو روڈ پر واقع ان کے مرکزی دفتر پہنچے تو وہاں محفل میلاد جاری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ موقع پر موجود رہنماؤں نے رینجرز سے تعاون کیا اور محفل روک کر رینجرز کو جو لوگ مطلوب تھے انھیں ان کے حوالے کر دیا گیا۔

شاہد غوری کے مطابق رینجرز نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کارکن بےقصور ہوئے تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں جب عبدالرؤف صدیقی اور وسیم احمد وزیرِ داخلہ تھے،تو ایم کیو ایم کی مخالفت پر ان کے کارکنوں پر جھوٹے مقدمات درج کروائے گئے تھے۔

رینجرز کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تاہم چھاپے سے ایک روز قبل ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی میں علمائے دین کے ایک وفد سے ملاقات کی تھی، جس میں انھوں نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ فطرانہ اور زکوٰۃ کی جبری وصولی کی فوری شکایت رینجرز ہیلپ لائن کو دی جائیں۔

سنی تحریک کے رہنما نے بی بی سی سے بات چیت میں بھتہ خوری اور زبردستی فطرانہ اور زکوٰۃ لینے کے الزامات کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال سے کارکنوں کے انفرادی طور پر زکوٰۃ جمع کرنے پر پابندی ہے اور’جو سنی تحریک کے ہمدرد حضرات ہیں وہ خود ہی یہ مدد فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے غریبوں میں راشن کی تقسیم اور دیگر فلاحی کام کیے جاتے ہیں۔‘

حال ہی میں رینجرز کے ڈی جی کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں سالانہ سوا دو کھرب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے، جس میں لینڈ مافیا، بھتہ خوری اور ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ وغیرہ شامل ہیں، اور اس عمل میں سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ 1990 کی دہائی میں کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف جاری آپریشن کے دنوں میں سنی تحریک ابھری تھی اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی ایم کیو ایم سے ملتا جلتا ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں شرکت کرنے پر دونوں جماعتوں میں اختلافات نے جنم لیا تھا جو آگے چل کر شدت اختیار کر گئے تھے اور چند سال کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے دونوں میں ’سیز فائر‘ کروایا تھا۔

2006 میں سنی تحریک کو اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا تھا جب نشتر پارک میں عیدمیلاد النبی کے جلسے میں ایک بم دھماکے میں اس کی پوری مرکزی قیادت ہلاک ہوگئی تھی۔

اسی بارے میں