رمضان کے احترام میں پھانسیوں پر عارضی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان میں 170 سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے

پاکستان میں ماہِ رمضان کی وجہ سے سزائے موت کے منتظر مجرموں کی سزا پر عمل درآمد عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

رمضان کے مہینے میں پھانسیاں دینے پر پابندی کی ہدایات وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

پاکستان میں رمضان کا آغاز جمعے سے ہوا ہے اور وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ اس مہینے کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

وزیراعظم نواز شریف کے اس حکم سے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور انھیں اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ میاں نواز شریف ہی نے گذشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عائد سات سالہ غیر اعلانیہ پابندی ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔

ابتدائی طور پر یہ پابندی صرف ان مجرموں کی سزائے موت پر سے اٹھائی گئی تھی جنھیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے یہ سزا سنائی گئی تھی تاہم بعد میں تمام پھانسیوں کی سزاؤں سے یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

پابندی کے خاتمے کے بعد سے پاکستان میں 170 سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے اور اس پر حقوقِ انسانی کی مقامی اور عالمی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت کل 8500 کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں اور ان میں سے کئی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

اسی بارے میں