سندھ میں نو ہزار ایکڑ آراضی فوج کو دینے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زمین کے بارے میں فوج کی درخواست کئی سال سے زیر التوا تھی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے فوج کو تقریباً ساڑھے نو ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فوج نے 2001 میں زرعی مقاصد کے لیے زمین فراہم کرنے کے لیے درخواست دی تھی جس کو 14 سالوں کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے منظور کرلیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس کو بتایا گیا کہ متعلقہ زمین جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو فراہم کی جائےگی۔ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ذاتی طور پر یہ درخواست کرچکے ہیں۔

یہ بھی محض اتفاق ہے کہ سندھ حکومت کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکمران جماعت کے سربراہ آصف علی زرداری کے فوج پر بیان کے بعد وہ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زیر تنقید ہیں، اسی روز ہی انھوں نے ہم خیال جماعتوں کو افطار پر بھی مدعو کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے تھا کہ 2001 میں پاکستان فوج نے سندھ حکومت کو شکارپور کے علاقے گڑھی یاسین میں ساڑھے32 ہزار ایکڑ زمین فراہم کرنےکی درخواست کی تھی۔ اس عرصے سے یہ فائل مختلف دفاتر کے چکر لگاتی رہی ہے چونکہ یہ زمین شہدا کے لواحقین اور جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لیے مانگی گئی تھی اس لیے اس درخواست کو قبول کرنا چاہیے تھا۔

صوبائی وزیر جنگلات گیانچند ایسرانی کا کہنا ہے کہ متعلقہ زمین شکارپور کی تحصیل گڑھی یاسین کی تحصیل گولو دڑو میں واقع ہے، جس میں سے 5000 ایکڑ پر بااثر افراد قابض تھے اور رینجرز نے حال ہی میں ان کا قبضہ ختم کرایا ہے۔ جبکہ 5000 ایکڑ پرائیوٹ لینڈ ہے تاہم 9000 ایکڑ زمین دستیاب ہے اس پر محکمہ جنگلات کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن نے اجلاس کو بتایا کہ 500 شہدا میں سے 200 کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔

صوبائی وزیر جنگلات گیانچند ایسرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھی اس فیصلے کی تائید کی کیونکہ فوج کے شہدا نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، ان کے لواحقین کو زمین دینا چاہیے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ عام طور پر محکمہ جنگلات پانچ برس کے لیے زمین لیز پر دیتا ہے جو تین سے پانچ ہزار روپے فی ایکڑ ہوتی ہے لیکن وزیر اعلیٰ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ لیز کی معیاد اور قیمت کا تعین کرسکتا ہے ۔

محکمہ جنگلات کے قوانین کے تحت فراہم کردہ زمین کے 80 فیصد پر کاشت کاری اور 20 فیصد پر درخت لگانا لازمی ہے۔ گیانچند ایسرانی کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ زمین غیر آْباد ہے اور کسی کے استعمال میں نہیں ، اس لیے کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔

محکمہ جنگلات کے مطابق صوبے میں جنگلات ساڑھے سات لاکھ ایکڑ پر مشتمل ہیں جن میں سے 6 لاکھ ایکڑ زمین دریا کے کچے کے علاقے میں واقع ہے۔ محکمے کی اپنی ویب سائیٹ کے مطابق صرف 2.29 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو بوقل ان کے ناکافی ہے ۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کل رقبے کا 25 فیصد پر جنگلات ہونا لازمی ہیں۔

اسی بارے میں