کراچی میں شدید گرمی سے کم از کم 110 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گرمی کے باعث ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد کی تھی

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور گذشتہ دو دنوں میں گرمی اور لو لگنے سے کم سے کم 110 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے۔

صوبائی سیکریٹری صحت سعید منگنیجو کے مطابق جناح ہسپتال میں 75، لیاری جنرل ہسپتال میں نو، سول ہسپتال میں دو اور عباسی شہید ہسپتال میں 24 افراد جاں بحق ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل سٹاف کی چھٹیاں منسوخ جبکہ ادویات کی فراہمی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

صوبائی سیکریٹری صحت کے مطابق تمام ہلاکتوں کی وجہ گرمی کی موجودہ شدید لہر ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کراچی اور دیگر علاقوں میں دو دنوں کے دوران کم سے کم 122 افراد ہو گئے۔

صوبائی سیکریٹری صحت سعید منگنیجو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران کراچی میں 114 جبکہ دیگر علاقوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ ساحلی شہر گذشتہ 24 گھنٹوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو درجۂ حرارت 44 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

کراچی میں جون سنہ 1979 میں ریکارڈ 47 سینٹی گریڈ گرمی پڑی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب میں لو ڈپریشن یا کم دباؤ کی وجہ سے معمول کی ہوا میں کمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔

شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو دس دس افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا، جبکہ چار کی موت شعبۂ حادثات میں ہوئی۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے جن کو تیز بخار اور الٹی کی شکایت تھی جبکہ گرمی کے باعث پہلے سے بیمار افراد کی بھی طبیعت بگڑ گئی۔

فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ دو روز میں اس نے 30 سے زائد افراد کو مردہ حالت میں ہپستالوں میں پہنچایا ہے جبکہ اسی عرصے میں ایدھی سرد خانے میں لاشوں کی آمد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ دو روز میں اس نے 30 سے زائد افراد کو مردہ حالت میں ہپستالوں میں پہنچایا ہے

ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ہلاک ہونے والے لوگوں کی میتیں بھی بڑی تعداد میں سرد خانے لائی گئی ہیں کیونکہ لواحقین کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں سخت گرمی کی وجہ سے میتیں خراب نہ ہو جائیں۔

دوسری جانب شہر کے کئی علاقوں میں گرمی کے دوران بجلی کی عدم فراہمی نے لوگوں کو مشتعل کردیا۔

ابو الحسن اصفہانی روڈ اور گلشن اقبال سمیت کئی علاقوں میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی نے شہر میں جاری پانی کی قلت کو بھی سنگین کردیا ہے۔

کے الیکٹرک کے مطابق گرمی کے باعث بجلی کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فیلڈ فورس نے کافی حد تک فالٹ دور کردیے ہیں۔ فیڈرل بی ایریا، گلشن، نارتھ ناظم آْباد، نارتھ کراچی، جمشید روڈ، ابو الحسن اصفہانی روڈ، شاہ فیصل اور کورنگی کے علاقے میں دشواری کا سامنا ہے۔

ترجمان کے مطابق مشتعل افراد کے حملوں کے سبب ان علاقوں میں فالٹس کی درستگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے مرمت کے کام پر مامور عملے کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا ہے اور اگلے دس سے بارہ گھنٹوں میں صورت حال میں واضح بہتری آئے گی۔

دریں اثنا پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے ایک ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرمی کی یہ شدت پری مون سون بارشوں یا مون سون کی ابتدائی بارشوں کے ہونے تک برقرار رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں میں سنیچر کو پہلی بارش ہوئی ہے اور اب ان بارشوں کا دوسرا دور ہو گا جس کی وجہ سے پنجاب کے 90 فیصد علاقے اور سندھ کے 68 فیصد علاقے میں بارشیں ہوں گی۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک ملنے والے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال مون سون کمزور ہو گا اور گرمی کی لہر کچھ عرصہ تک چلے گی۔

اسی بارے میں