شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کیمپ پر فائرنگ سے دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کی شام ایف آر بنوں کے علاقے بکاخیل میں قائم شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپ میں پیش آیا

پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر بنوں میں اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپ میں سکیورٹی فورسز اور آئی ڈی پیز کے مابین تصادم کے نتیجے میں دو آئی ڈی پیز ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کی شام ایف آر بنوں کے علاقے بکاخیل میں قائم شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپ میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ تصادم کی کفیت اس وقت پیدا ہوئی جب سکیورٹی فورسز نے دیر سے آنے پر کچھ متاثرین کو بکاخیل کیمپ کے مرکزی گیٹ پر چیکنگ کےلیے روکا اور ان سےگیٹ پاس کا مطالبہ کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ اس دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وہاں کشیدگی اور احتجاج کی صورت حال پیدا ہوئی۔

ان کے مطابق اس دوران کیمپ میں موجود دیگر متاثرین بھی آ گئے اور انھوں نے وہاں احتجاج شروع کردیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے متاثرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی فائرنگ کی جس سے دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔

بنوں میں ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے دو افراد کی لاشیں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور سی ایم ایچ ہسپتال لائی گئیں جبکہ دیگر زخمیوں کو بھی بنوں کے ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب ابھی تک فوج کی جانب سے اس ضمن میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زآئد افراد بےگھر ہوچکے ہیں

ادھر بنوں میں بھی زخمیوں کے ورثا اور متاثرین نے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی عدم موجودگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور کچھ وقت کےلیے سڑک کو بند کیے رکھا تاہم بعد میں مقامی انتظامیہ کی یقین دہانیوں پر مظاہرین نے سڑک کو کھول دیا اور منتشر ہوگئے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زآئد افراد بےگھر ہوچکے ہیں۔

بے گھر ہونے والے بیشتر خاندان بنوں اور آس پاس کے علاقوں میں کرائے کے مکانات یا پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہیں۔

بکاخیل میں قائم پناہ گذین کیمپ میں اس وقت تقربناً 30 ہزار کے قریب متاثرین رہائش پزیر ہیں۔

حکومت نے تقربناً دو ماہ پہلے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ کا آغاز کیا تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان علاقوں کے لوگوں کو واپس اپنے گھروں کو بھیجا گیاہے جہاں آپریشن نہیں ہوا تھا۔

متاثرین نے حکومت کی جانب سے ان کے گھروں کو واپسی میں تاخیر کے خلاف حال ہی میں احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔

اس ضمن میں وزیرستان کے ایک جرگہ نے تین دن قبل گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان سے پشاور میں ملاقات بھی کی تھی۔

جرگہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر متاثرین کی واپسی میں تیزی نہیں لائی گئی تو اس کے خلاف پشاور اور اسلام آباد دھرنے دیئے جائینگے۔

اسی بارے میں