کراچی میں گرمی سے کم از کم 770 ہلاک، ہنگامی اقدامات کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پی ڈی ایم اے کوگرمی سے متاثرہ افراد کے لیے ایک ہنگامی ہیلپ لائن شروع کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شدید گرمی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 750 سے تجاوز کر گئی ہے۔

اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کو ہنگامی بنیادوں پر ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

’49 ڈگری ہیٹ انڈیکس اموات کی وجہ بنا‘

صوبہ سندھ میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے منگل کو مزید 218 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

نامہ نگار رضا ہمدانی کے مطابق کراچی میں تین دن کے دوران گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 750 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

کراچی کے علاوہ اندرون سندھ میں جیکب آباد، شکارپور اور لاڑکانہ میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم سب سے زیادہ ہلاکتیں ٹھٹھہ میں ہوئی ہیں جہاں 21 افراد ہلاک ہوئے۔

جناح ہپستال کے شعبۂ ہنگامی امداد کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ جناح ہسپتال میں279 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

’اب بھی دس افراد کی حالت تشویشناک ہے اور ایمرجنسی اور دیگر وارڈز میں کُل مریضوں کی تعداد 160 ہے۔‘

دوسری جانب سول ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مظفر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ سول ہسپتال میں ہلاکتوں کی تعداد 93 ہو گئی ہے۔

عباسی شہید ہپستال میں 131 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ لیاقت نیشنل ہسپتال میں 67 افراد دم توڑ گئے۔

منگل کو شہر کے درجۂ حرارت میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے تاہم اس کے باوجود ہسپتالوں میں متاثرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرمی کی شدید لہر کے بعد کراچی کے چند علاقوں میں بوندا باندی تو شروع ہوئی تاہم حبس اب بھی برقرار ہے

نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان انور کاظمی کے مطابق سنیچر سے منگل تک سرد خانے میں 500 سے زیادہ لاشیں لائی گئیں اور یہ تعداد مردہ خانے میں لاشیں رکھنے کی گنجائش سے کہیں زیادہ تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں مردہ خانے میں نہیں لائی گئیں۔

ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے احکامات پر پی ڈی ایم اے سندھ اور صوبائی محکمۂ صحت کے تعاون سے صوبے بھر میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں’ہیٹ سٹروک سینٹرز‘ قائم کرنے کے علاوہ گرمی اور لُو کا شکار افراد کے لیے متعلقہ ادویات کا ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدید گرمی کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کراچی کے عوام سڑکوں پر نکل آئے

این ڈی ایم اے نے اپنے صوبائی ادارے کو گرمی کی اس لہر سے متاثرہ افراد کے لیے ایک ہنگامی ہیلپ لائن شروع کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ عوام کو حفاظتی اقدامات کے بارے میں مطلع کیا جا سکے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج اور رینجرز نے گذشتہ دو دن کے دوران صوبے بھر میں چھاؤنی کے علاقوں میں پہلے ہی ہیٹ سنٹر قائم کر دیے ہیں جہاں متاثرین کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ادھر صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ نے گرمی کی شدت کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے بھر میں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے سندھ میں دفاتر، سکول اور کالج بند کر رہے ہیں۔ تاہم ہسپتالوں جیسے وہ ادارے جو بنیادی خدمات مہیا کرتے ہیں کھلے رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عوام نے گرمی کا اثر کم کرنے کے لیے تالابوں کا رخ کیا ہے

اسی بارے میں