کراچی میں گرمی سے ہلاکتیں 1100 سے بڑھ گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ rueters
Image caption صوبائی محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے سب سے زیادہ افراد جناح ہسپتال میں ہلاک ہوئے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شدید گرمی سے مرنے والوں کی تعداد 1140 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اندرونِ سندھ بھی30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پانچ دن تک شدید گرمی پڑنے کے بعد شہر کا موسم اب بہتر ہے لیکن اب بھی شہر کے ہسپتال اس گرمی سے متاثر ہونے والے افراد سے بھرے ہوئے ہیں۔

کراچی کے عوام گرمی سے بےحال: تصاویر

’49 ڈگری ہیٹ انڈیکس اموات کی وجہ بنا‘

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ افراد جناح ہسپتال میں ہلاک ہوئے اور وہاں درجنوں افراد کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

جناح ہسپتال کے شعبۂ ہنگامی امداد کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جمعرات تک وہاں 329 افراد کی گرمی اور اس سے متعلقہ امراض کی وجہ سے ہلاکت ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی میں ہلاکتوں میں کسی حد تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے

اس کے علاوہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں 213 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ان ہسپتالوں کے علاوہ عباسی شہید ہسپتال سے 164، سول ہسپتال کراچی سے 123، لیاقت نیشنل ہسپتال سے 73، ادارۂ امراض قلب سے 51، ادارۂ اطفال سے 12 جبکہ دیگر نجی ہسپتالوں میں بھی 175 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ پی ٹی وی کے مطابق حیدرآباد کے علاوہ اندرون سندھ میں ٹھٹھہ، جیکب آباد، شکارپور اور لاڑکانہ میں 30 سے زیادہ افراد گرمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کراچی میں گرمی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ سے شہر کے مردہ خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش بھی ختم ہو گئی

صوبائی حکومت نے بدھ کو پورے صوبے میں شدید گرمی کی وجہ سے عام تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔

اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ سے شہر کے مردہ خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش بھی ختم ہو گئی جس کی وجہ سے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان انور کاظمی کے مطابق گرمی کی لہر شروع ہونے کے بعد ابتدائی تین دن میں ہی 500 لاشیں ایدھی کے مردہ خانے لائی گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں مردہ خانے میں نہیں آئیں۔

کراچی میں ہلاکتوں میں کسی حد تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے بھی کہا ہے کہاگر لوڈشیڈنگ نہ ہوتی تو اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے بچا جا سکتا تھا۔

اسی بارے میں