ایم کیو ایم کے کارکن کا مبینہ قاتل گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے شہر کراچی میں نیم فوجی دستے رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن وقاص شاہ کے مبینہ قاتل کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رینجرز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک تفصیلی بیان کے مطابق ملزم آصف علی کو شہداد پور میں خفیہ معلومات ملنے پر ایک کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔

وقاص شاہ ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر پر رینجرز کے چھاپے کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم گولی سے مارا گیا تھا۔

’نائن زیرو پر کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی‘

ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ، متعدد افراد گرفتار

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے رینجرز کے چھاپے کی فوٹیج مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھی اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک پستول سے مسلح ہو کر نائن زیرو پہنچ گیا اور رینجرز اہلکاروں کو اشتعال دلانے کے لیے نعرے بازی شروع کر دی۔

رینجرز کے مطابق اسی دوران ملزم نے موقع دیکھ کر اپنے پیچھے کھڑے ہوئے ایم کیو ایم کے کارکن وقاص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور ایک منصوبے کے تحت اپنے ساتھیوں کے ساتھ میڈیا کو وقاص کی لاش کے قریب بلایا اور واویلا کیا کہ وقاص کو رینجرز نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔

بیان کے مطابق:’ 11 مارچ 2015 کو ایک نجی ٹی وی چینل پر ویڈیو دیکھی جس میں وہ واضح طور پر پستول نکال رہا تھا تو اس نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی سے رابط کیا اور انہیں ٹی وی پر نشر ہونے والی رپورٹ کے بارے میں بتایا۔ جس پر انھیں نائن زیرو پہنچنے کی ہدایت کی اور اس کے دفاع میں پریس کانفرنس کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن یہ ملاقات ہو سکی اور نہ ہی پریس کانفرنس ہوئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیان کے مطابق ملزم نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی سے رابط کیا تھا

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم نے اس کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لے داڑھی رکھ لی اور اندرون سندھ فرار ہو گیا جہاں سے اسے گرفتار کیا گیا ہے۔

بیان میں کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر بتایا گیا ہے کہ یہ ایک سیاسی جماعت کا کارکن ہے اور گلستان جوہر یونٹ ایف کا یونٹ انچارج رہ چکا ہے اور ملزم علاقہ مکینوں، مارکیٹوں اور دکانوں سے بھی باقاعدگی سے بھتہ وصول کرتا تھا جبکہ بھتے کے تنازعے پر اے این پی کے کارکنوں کے ساتھ مسلح جھڑپ میں زخمی بھی ہو چکا ہے۔

ملزم پر عائد کردہ الزامات کے تحت اس نے 2013 کے انتخابات کے دوران گلستان جوہر میں بطور الیکشن سیل ممبر کام کیا اور سینکڑوں جعلی ووٹ بھگتائے۔اس کے علاوہ ملزم نے جبراً کھالیں چھیننے اور فطرانہ جمع کرنے کا اعتراف بھی کیا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ رینجرزنے ایم کیوایم گلستان جوہر سیکٹر کے کارکن آصف علی کو 12مئی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انہیں ایم کیوایم کے دیگر کارکنوں کی طرح غائب کر دیا گیا تھا اور جمعرات کو ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے تو انھیں ایم کیوایم کے جواں سال کارکن وقاص علی شاہ کے قتل میں ملوث کر دیا گیا ہے۔

ایم کیوایم نے اعلامیے میں الزام عائد کیا ہے کہ وقاص شاہ رینجرز کے اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے جس کے گواہ درجنوں افراد ہیں اور رینجرز کا یہ دعویٰ وقاص شاہ کے قتل میں ملوث رینجرز کے اہلکاروں کو بچانے کی کوشش ہے۔

اسی بارے میں