عمران فاروق کیس: برطانوی پولیس ٹیم اسلام آباد میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز نے معظم علی کو رواں برس اپریل میں کراچی سے ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا

برطانوی پولیس افسران کی سات رکنی ٹیم لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں اسلام آباد پہنچی ہے۔

سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانوی پولیس افسران کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار صرف ایک ملزم معظم علی تک رسائی دی جائے گی۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر برطانوی ٹیم کو اس کیس میں گرفتار کیےگئے دیگر دو ملزمان سے انٹرویو کرنا ہے تو انھیں اپنے دورے کے دوران اس بارے میں علیحدہ سے درخواست دینا ہو گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ سات رکنی برطانوی ٹیم پاکستانی حکام کی موجودگی میں اپنی تحقیقات کرے گی اور یہ سات دن میں مکمل کی جائیں گی۔

دوسری جانب پاکستان کے مقامی میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق سکارٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پیر کو پاکستان پہنچے گی۔

اس سے پہلے منگل کو برطانوی پولیس کو ایک ملزم تک رسائی دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ملزم سے تفتیش صرف برطانوی اہلکار کریں گے یا اس میں پاکستانی حکام بھی شریک ہوں گے۔چوہدری نثار نے ملزم کا نام تو نہیں لیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس شخص کو کراچی سے حراست میں لیا گیا تھا۔

رینجرز نے رواں برس اپریل میں کراچی سے معظم علی نامی شخص کو ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا اور اس وقت وزارت داخلہ نے کہا تھا وہ عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران فاروق قتل کیس کے دو ملزمان کوئٹہ میں زیرِ حراست ہیں جبکہ ایک ملزم کراچی میں ہے اور چاہتے ہیں کہ ان تینوں کو اسلام آباد لایا جائے: چوہدری نثار

معظم علی پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر اُن دو افراد کو لندن بھجوایا تھا جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس وقت یہ بھی تصدیق کی تھی کہ لندن میٹروپولیٹن پولیس کی دو رکنی ٹیم ہفتۂ رواں کے آخر یا آئندہ ہفتے کے آغاز تک پاکستان پہنچ جائے گی۔

انھوں نے کہا تھا کہ عمران فاروق قتل کیس کے دو ملزمان کوئٹہ میں ایف سی کی زیرِ حراست ہیں جبکہ ایک ملزم کراچی میں ہے اور چاہتے ہیں کہ ان تینوں کو اسلام آباد لایا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جن دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان میں حراست میں لیے گئے دو ملزمان تک رسائی کے لیے ابھی برطانوی حکام کی جانب سے کوئی درخواست نہیں دی گئی اور اگر ایسی کوئی درخواست آئی تو اس پر مناسب فیصلہ ہوگا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمے کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں اور ایم کیو ایم بھی چاہتی ہے کہ مجرم انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو جو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا وہ پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ ایک پاکستانی کا قتل ہے، انتہائی اہم شخصیت کا قتل ہے اور برطانیہ سمیت پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران فاروق کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق ستمبر سنہ 2010 میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈاکٹر عمران فاروق ستمبر سنہ 2010 میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

میٹروپولیٹن پولیس سروس کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزادانہ سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس نے لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کےقتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے جہاں سے مبینہ طور پر بھاری مقدار میں نقدی برآمد کی گئی تھی اور اس کے لندن پولیس نے ڈاکٹر فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔

اس کیس میں جاری تحقیقات کے دوران تین جون 2014 میں پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا تھا اور سات جون کو انھیں ابتدائی تفتیش کے بعد جولائی تک ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔بعد میں ان کی ضمانت میں 14 اپریل اور بعد میں جولائی 2015 تک توسیع کر دی گئی تھی۔

بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے۔

اسی بارے میں