’شیخوپورہ میں خودکش حملہ آور سمیت چار دہشت گرد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایلیٹ فورس نے فیروز والا میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی خفیہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد کی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی ایلیٹ فورس کی کارروائی میں چار دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروز والا کے ڈی ایس پی احسان کھوکھر نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شب محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی ایلیٹ فورس نے دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہونے پر رحمان گارڈن میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا۔

انھوں نے بتایا کہ ’وہاں موجود ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ دیگر تین دہشت گرد پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔‘

پولیس حکام کے مطابق ایلیٹ فورس کی اس کارروائی میں کوئی سکیورٹی اہلکار زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ معروف واہلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد لاہور شہر میں بڑے پیمانے پر شدت پسند کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس اطلاع پر مذکورہ جگہ پر چھاپہ مارا گیا۔ ملزمان نے پولیس کو دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی، پولیس کی جوابی فائرنگ میں تین مبینہ دہشت گرد موقعے پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک خودکش حملہ آور نے مکان سے باہر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

معروف واہلہ کے مطابق پولیس کو جائے وقوعہ سے تین خودکش جیکٹیں اور دو عدد لیپ ٹاپ بھی ملے ہیں جن سے ڈیٹا حاصل کر کے تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

اس سے پہلے پولیس نے القاعدہ کے لیے رقوم اکٹھا کرنے کے الزام میں ایک ملزم شیخ حسن ظہیر کو لاہور سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پیشے کے لحاظ سے انجنیئر ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم شیخ حسن ظہیر کے اسامہ بن لادن سے بھی قریبی تعلقات رہے ہیں۔

ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانے پر مارے گئے چھاپے میں اسلحہ اور اہم مقامات کے نقشے برآمد ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں پنجاب پولیس نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں پنجاب پولیس نے غیر قانونی مذہبی تنظیم اہلسنت و الجماعت کے مرکزی راہنما اورنگ زیب فاروقی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

اپریل میں بھی لاہور پولیس نے کالعدم تنظیم حزب التحریر کے صوبائی صدر کو پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کو جہاد پر اکسانے کے جرم میں گرفتار کر نے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی عرصے میں پولیس حکام نے لاہور میں داروغہ والا کے علاقے میں ایک پولیس مقابلے میں سری لنکن ٹیم پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات میں ملوث تین ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں