ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عامر خان کو پولیس کے کڑے پہرے میں سینٹرل جیل کراچی سے بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما عامر خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

عامر خان پر جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے کا الزام ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت دوم کی جج خالدہ یاسین نے اپنے مختصر حکم میں کہا کہ جب تک مقدمہ چل رہا ہے عامر خان ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

اس سے پہلے 26 جون کو ضمانت کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ عامر خان نے دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروائے ہیں۔

عامر خان کے وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عدالت نے ضمانت کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات تصدیق کے لیے بھیجی ہیں جن کی تصدیق پیر کو عدالتی وقت ختم ہونے تک مکمل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منگل کو تصدیق کا عمل مکمل ہوجائے گا جس کے بعد عدالت ان کی رہائی کا حکم جاری کر دے گی۔ ایک سوال کے جواب میں شوکت حیات نے کہا کہ استغاثہ نے عدالت میں جو چالان جمع کرایا تھا اس میں اس مقدمے کے سوا ان پر کوئی اور الزام نہیں ہے۔

’عدالت نے بھی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران پروسیکیوٹر سے پوچھا تھا کہ ملزم کسی اور مقدمے میں تو ملوث نہیں تو انہوں نے نفی میں جواب دیا تھا۔‘

ان کے وکیل کا موقف تھا کہ استغاثہ تین ماہ تک زیرتفتیش رکھنے کے باوجود عامر خان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا بلکہ تمام گواہان رینجرز اور پولیس کے اہلکار ہیں۔

عامر خان کو پولیس کے کڑے پہرے میں سینٹرل جیل کراچی سے بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔

سماعت کے دوران ایم کیو ایم کے کئی راہنما بھی عدالت میں موجود تھے۔

عامر خان متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن ہیں۔

انھیں رینجرز نے 11 مارچ کو کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع پارٹی کے صدر دفتر نائن زیرو پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 60 سے زیادہ دیگر مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بیشتر کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

رینجرز نے انھیں لگ بھگ تین ماہ تک حفاظتی حراست میں رکھنے کے بعد رواں ماہ کے اوائل میں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

اسی بارے میں