عمران فاروق قتل کیس، دو ملزمان ایف آئی اے کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’محسن علی اور خالد شمیم سے تفتیش کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستانی حکومت کو خط لکھے گی‘ (فائل فوٹو)

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو اس مقدمے کی تحققیات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔

اس سے پہلے مذکورہ دونوں افراد فرنٹئیر کور کی تحویل میں تھے۔

متحدہ پر الزامات، مقدمات، تحقیقات اور مشکلات

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ان دونوں افراد کو تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت ایف ائی اے کی تحویل میں دیا گیا ہے جو 90 روز تک ملزمان کو اپنی تویل میں رکھے گے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ملزمان سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر انعام غنی کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والے شخص محسن علی پر الزام ہے کہ وہ ان دو افراد میں شامل تھے جنھیں ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے لندن بھجوایا گیا تھا۔

مذکورہ ملزم کو برطانیہ بھیجنے کے انتظامات معظم علی نامی ملزم نے کیے تھے جو اس وقت پاکستان کے قانون نافد کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔

معظم علی سے تفتیش کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معظم علی سے تفتیش کے لیے سکاٹ لینڈ یادرڈ کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے

اہلکار کے مطابق پاکستان کے دورے پر آنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے اس تفتیشی ٹیم سے ملاقات کی تھی جنہوں نے معظم علی سے تفتیش کی تھی اس کے علاوہ اس ٹیم کو تفتیش میں لکھی جانے والی دستاویز بھی فراہم کی گئی ہیں۔

اہلکار کے مطابق سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بدھ سے ملزم معظم علی سے تفتیش کا سلسلہ شروع کرے گی۔

اہلکار کے مطابق محسن علی اور خالد شمیم سے تفتیش کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستانی حکومت کو خط لکھے گی جس کے بارے میں امکان یہی ہے کہ پاکستانی حکومت اس کا مثبت جواب دے گی۔

اسی بارے میں