ماہ رمضان میں انتخابات نہ کرائے جائیں: امیدوار کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ afp

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پانچ جولائی کو صوبہ بھر میں تین سو سے زائد پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ہونے والے بلدیاتی انتخاب کے خلاف امیدواروں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بیشتر امیدواروں نے خبردار کیا ہے کہ الیکشن شیڈول کے تبدیل نہ ہونے کی صورت میں انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا جائےگا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صوبے کے چودہ اضلاع میں 367 پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کی شکایات ثابت ہونے پر اعلان کیاگیا تھا کہ پانچ جولائی کو دوبارہ پولنگ کا انعقاد کرایا جائے گا۔

تاہم انتخابات میں حصہ لینے والے بیشتر امیدواروں کی جانب سے رمضان المبارک کے ماہ میں الیکشن کے انعقاد کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پشاور اور صوبہ کے مختلف اضلاع میں امیداوروں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ تیز کیا جا رہا ہے۔

دو دن پہلے پشاور میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر الیکشن کا شیڈول تبدیل نہ کیاگیا تو وہ انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ رمضان کے ماہ میں نہ تو موثر انتخابی مہم چلائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ووٹر ووٹ ڈالنے میں دلچسپی لیتے ہیں، لہذا یہ شیڈول فوری طورپر تبدیل کیا جائے۔

انھوں نے دھمکی دی کہ اگر انتخابات کا شیڈول تبدیل نہ کیاگیا تو اس ضمن میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا اور بائیکاٹ بھی کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ تیس مئی کو خیبرپختونخوا میں طویل عرصہ کے بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی اور تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جس میں چوبیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

صوبے کے مختلف اضلاع سے کئی امیدواروں نے دھاندلی اور بےضابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایات درج کروائی تھیں جس کے بعد فیصلہ کیاگیا کہ چودہ اضلاع کے 367 پولنگ سٹشینوں پر دوبارہ پولنگ کا انعقاد کرایا جائے گا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ صوبائی حکومت نے انتخابات میں دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کےلیے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا حکومت کو الیکشن میں دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے سے روک دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو لکھے گیے ایک خط میں واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرانے کا کوئی اختیار نہیں بلکہ یہ اختیار کمیشن کا ہے اور حکومت الیکشن کمیشن کو کہہ کر دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرا سکتا ہے۔

اسی بارے میں