ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کی ضمانت پر رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عامر خان کو رینجرز نے 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی سینٹرل جیل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عامر خان کو منگل کی سہ پہر رہا کر دیا گیا ہے۔

عامر خان پر جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے اور انھیں مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔

کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عامر خان کو عدالتی حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پیر کو ہی انھیں دس لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالت نے انھیں مقدمے کے فیصلے تک بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے۔

عامر خان کو رینجرز نے 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔ چھاپے کے دوران رینجرز نے نائن زیرو اور اس کے قرب و جوار کی عمارتوں سے 26 مسلح ملزمان کو گرفتار کرنے اور بڑی تعداد میں جدید اسلحہ اور گولیاں برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

رینجرز کا کہنا تھا کہ عامر خان کے ساتھ گرفتار ہونے والوں میں صحافی ولی خان بابر اور وکیل نعمت علی رندھاوا کے قتل میں مطلوب ملزمان بھی شامل تھے۔ رینجرز نے اسی کارروائی کے دوران 60 کے قریب افراد کو شبہے کی بنیاد پر حراست میں بھی لیا تھا جن کی اکثریت کو بعد میں رہا کردیا گیا۔

چار جون کو رینجرز نے عامر خان کے خلاف عزیز آباد تھانے میں مقدمہ درج کرانے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

ان کی رہائی ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب ان کی جماعت ایم کیو ایم کو پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے الزام میں پولیس کی تفتیش کا سامنا ہے۔

پارٹی کے قائد الطاف حسین نے پیر کو کراچی میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہا کہ ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور اسے بھارت اور را کا ایجنٹ ثابت کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں