چار پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption اسلام آباد کی انتظامیہ نے وفاقی دارلحکومت کے حدود میں آئل ٹینکرز کے کھڑے ہونے پر پابندی عائد کرر کھی تھی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے افغانستان میں نیٹو فورسز کے تیل کے ٹینکروں کو آگ لگانے اور چار پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے تین ملزموں کو مجرم قرار دیتے ہوئے اُنھیں آٹھ آٹھ مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ ان مجرموں کو عمر قید اور تین تین لاکھ روپے جرمانےکی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرموں میں علی عمران، اعزاز الرحمٰن اور شجاع الدین شامل ہیں اور ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ مجرموں کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

واضح رہے کہ مجرموں نے 2010 میں اٹک کے علاقے پنڈی گھیپ کے قریب تیل کے 11 ٹینکروں کو اس وقت آگ لگا دی جب ان ٹینکروں کے ڈرائیور کھانا کھانے کے لیے ایک ہوٹل پر رکے تھے۔

اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقعِ واردات پر پہنچی تو ان افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر اقبال حیدر سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پولیس نے موبائل فون کے ذریعے ان ملزمان کا سراغ لگا کر اُنھیں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے گرفتار کیا۔ مقامی پولیس کے مطابق ان افراد نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ انھوں نے نہ صرف ان 11 آئل ٹینکروں کو جلایا تھا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ ترنول کے علاقے میں ان دو آئل ٹینکر بھی نذر آتش کر چکے ہیں جو افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے تیل لے کر جا رہے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی حدود میں واقع سنگ جانی کے قریب شدت پسندوں نے نیٹو فورسز کے لیے تیل لے جانے والے 40 سے زائد ٹینکروں کو آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت کی حدود میں آئل ٹینکروں کے کھڑے ہونے پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاہم تھانہ ترنول کے انچارج نے مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے ان آئل ٹینکروں کے ڈرائیورز کو رات کے وقت قیام کرنے کی منظوری دی تھی۔

تفتیش کے بعد مذکورہ تھانے کے انچارج کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں