’ایم کیو ایم پر پابندی لگنی چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حوالے سے بڑے سنگین الزامات ہیں: سرفراز بگٹی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔

انھوں نے یہ بات منگل کو ایف سی مددگار سینٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر فرنٹیئر کور کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل بریگیڈیئر طاہر محمود بھی موجود تھے۔

بلوچستان سے مبینہ طور پر ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی گرفتاری کے بارے میں سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کور نے ان کو پکڑا تھا اور بعد میں ان کو وفاقی وزارت داخلہ کے حوالے کر دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی ادارے اور اسکاٹ لینڈ یارڈ ان سے تفتیش کر رہی ہیں۔

سرفراز بگٹی نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ اس بات کے گواہ ہوں گے کہ میں پہلا شخص تھا جو یہاں آ کر پبلک میں کہتا تھا کہ یہاں را ملوث ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب بی بی سی نے ایم کیو ایم کے حوالے سے ایک ڈاکیومینٹری چلائی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حوالے سے بڑے سنگین الزامات ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہمارے چند وزرا برطانیہ میں جلا وطنی اختیار کرنے والے خان قلات میر سلیمان داؤد سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔

کوہلو کے علاقے میں ایک مسلح جھڑپ کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپ دو کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان ہوئی اور اس میں ہلاک ہونے والے 20 افراد کا تعلق انھی تنظیموں سے ہے۔

اس موقع پر میڈیا کو اس اسلحہ و گولہ بارود کی تفصیلات فراہم کی گئیں جو فرنٹیئر کور اور پولیس کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بر آمد کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں