کراچی اموات: ’ذمہ دار اداروں کا شفاف انداز میں احتساب ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کراچی میں گرمی سےتقریباً 1250 اموات ہوئی ہیں

وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کراچی میں شدید گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری تمام متعلقہ اداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔

وزیرِ اعظم آج مختصر دورے پر کراچی پہنچے جہاں انھوں نے وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں اہم اجلاس کی صدارت کی۔

اس موقعے پر وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کراچی میں گرمی سےتقریباً 1250 اموات ہوئی ہیں جبکہ گرمی سے متاثر 65 ہزار افراد کو ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں شدید گرمی کے باعث ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس موقعے پر پوری قوم کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے اور اس واقعے کے ذمہ دار اداروں کا شفاف انداز میں احتساب کیا جانا چاہیے۔

اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری صالح فاروقی نے شرکا کو کراچی کے لیے ’گرین لائن بس سروس‘ کے بارے میں بریفنگ دی جسے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کو بطور تحفہ قرار دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گرین لائن بس سروس 17.8 کلومیٹر طویل روٹ پر چلائی جائے گی۔

اس پروجیکٹ پر 16 ارب روپے کی لاگت آئے گی جس میں سے آٹھ ارب وفاقی حکومت ادا کرے گی۔

اجلاس میں کراچی کو اضافی 26 کروڑ گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے پر بھی بات ہوئی جس کے اخراجات کو وفاقی اور سندھ حکومت مل کر پورے کریں گے۔

وزیرِ اعظم کے ساتھ اس دورے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، سافران کے وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ اور سینیٹر مشاہد اللہ بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں