’نوادرات تو پیکنگ میں ہی آدھے ختم ہوگئے‘

Image caption ’ ان نوادرات کی پیکنگ کے لیے گتے کے ڈبے استعمال کیے گئے ہیں جس سے کئی نازک نوادرات کو نقصان پہنچا ہوگا‘( تصاویر وقار اشرف‘

پاکستان کے شہر کراچی میں آثار قدیمہ کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے آثار قدیمہ کے بیش قیمت خزانے کی منتقلی کے لیے غیرپیشہ ورانہ طریقہ اختیار کرنے سے کئی قیمتی تاریخی نوادرات کو نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں پاکستان کے علاوہ امریکہ، فرانس اور اٹلی سمیت دیگر غیرملکی تحقیقی مشنز کی جانب سے رکھوائی گئی نوادرات بھی شامل ہیں جو انہوں برسہا برس کی محنت کے بعد دریافت کی تھیں۔

کراچی کی شاہراہ فیصل پر حفیظ پلازہ کی پہلی منزل پر واقع محکمہ آثارقدیمہ سندھ کی ایکسپلوریشن اینڈ ایکسکیویشن برانچ قائم ہے جہاں ان نایاب تاریخی نوادرات کا خزانہ نصف صدی سے زیادہ عرصے محفوظ ہے۔

جب میں ایکسپلوریشن اینڈ ایکسکیویشن برانچ کی عمارت کے سامنے پہنچا تو باہر ہی باہر فٹ پاتھ پر بہت سی خالی الماریاں اوپر تلے پڑی تھیں جن پر آمری اور دوسری قدیم جگہوں کے نام چسپاں تھے۔

غالباً ان الماریوں کے اندر نوادرات محفوظ تھیں۔ دفتر میں ایک لائبریرین اور ایک چوکیدار موجود تھے جن کے سامنے فرش پر جابجا دودھ، پھلوں اور سبزیوں اور بجلی کی تنصیبات کے مختلف برانڈز کےگتے کے ڈبے موجود تھے۔

لائبریرین نے بتایا کہ ان میں نوادرات پیک کی گئی ہیں۔ کچھ نوادرات کھلی پڑی تھیں جن میں ایک پتھر پر بالاکوٹ درج تھا جبکہ دفتر کے اندر ہی ایک جانب فرش پر پڑی ہوئی دو بڑی درازوں میں مٹی سے بنی ہوئی کئی چھوٹی چھوٹی نوادرات جمع تھیں جن میں زیادہ تر ٹوٹی ہوئی تھیں۔

اس معاملے پر صوبائی محکمۂ ثقافت کے شعبہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر قاسم علی قاسم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال نجی مصروفیات کی وجہ سے اس پر بعد میں اپنا مؤقف دے سکیں گے۔

Image caption اس مرکز میں مہر گڑھ، موہن جو دڑو اور آمری اور بالاکوٹ سمیت پاکستان بھر میں تاریخی آثار کی تلاش میں ہونے والی کھدائی میں ملنے والے ہزاروں نوادرات موجود ہیں

ایکسپلوریشن اینڈ ایکسکیویشن برانچ کی سابق نگراں ڈاکٹر اسما ابراہیم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ اس معاملے میں تاریخی نوادرات کی منتقلی کے بین الاقوامی طریقے کو نظرانداز کیا گیا ہے جس کی بناء پر اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان میں سے بیشتر نوادرات کو نقصان پہنچا ہے اور چوری کے امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرکز میں مہر گڑھ، موہن جو دڑو اور آمری اور بالاکوٹ سمیت پاکستان بھر میں تاریخی آثار کی تلاش میں ہونے والی کھدائی میں ملنے والے ہزاروں نوادرات موجود ہیں۔

Image caption غالباً ان الماریوں کے اندر نوادرات محفوظ تھیں

حکومت سندھ نے ایکسپلوریشن اینڈ ایکسکیویشن برانچ اور اسی کے احاطے میں واقع سینٹرل آرکیالوجیکل لائبریری کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر آثار قدیمہ کے ماہرین احتجاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر اسما نے کہا کہ صوبائی حکومت نے احتجاج کے باوجود خاموشی سے مرکز کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے اور نوادرات کی پیکنگ کا عمل ماہرین کی نگرانی کے بغیر ہوا ہے اور نچلے درجے کے ملازمین سے کرایا گیا ہے۔

’ان چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے بہت ہی پیشہ ورانہ پیکنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام ماہرین کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ پھر اس میں ہماری ہی نہیں غیر ملکی مشنز کی دریافت کردہ نوادرات بھی شامل ہیں، کل کو یہ سارا غیر ملکی میڈیا میں آئے گا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔‘

Image caption کچھ نوادرات کھلی پڑی تھیں جن میں ایک پتھر پر بالاکوٹ درج تھا

انہوں نے کہا کہ ان نوادرات کی پیکنگ کے لیے گتے کے ڈبے استعمال کیے گئے ہیں جس سے کئی نازک نوادرات کو نقصان پہنچا ہوگا۔

’اس کے لیے لکڑی کے ڈبے بنتے ہیں اور اس کی پیکنگ کے لیے خصوصی مٹیریل استعمال ہوتا ہے، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ جب انہوں نے گتے کے ڈبوں میں مٹی کی بنی ہوئی مورتیاں، برتن اور بیل وغیرہ رکھ دیے ہیں جو پانچ ہزار سال پرانے ہیں تو وہ پیکنگ میں ہی آدھے تو ختم ہوگئے ہوں گے۔‘

اسی بارے میں