’سیاسی انتقام میں بھانجوں پر تشدد کیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس سیاسی انتقام کے لیے پولیس کو استعمال کر رہی ہے

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ان کے بھانجوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹس میں عمران خان نے پہلے تو یہ سوال کیا کہ پنجاب پولیس نے کب سے لوگوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر مارنا پیٹنا شروع کر دیا ہے؟

حال ہی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے دو نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دونوں نوجوانوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ ان کے بھانجے تھے۔

عمران خان نے ٹریفک پولیس کی اس کارروائی کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

انھوں نے ٹریفک پولیس کے ہاتھوں بھانجوں پر ہونے والے تشدد کے موقعے پر فوری طور پر وہاں میڈیا کے پہنچنے پر حیرت کا اظہار کیا۔

’واضح طور پر یہ پہلے سے طے تھا، لڑکوں کی ویڈیو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پنجاب پولیس گلو بٹ بن چکی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

اس واقعے پر اپنی تیسری ٹوئٹ میں عمران خان نے اپنے بھانجوں کے بارے میں لکھا کہ وہ بہت نرم مزاج ہیں اور ان کے والدین نے ان کی بہت اچھی پرورش کی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں نوجوانوں نے کبھی بھی عمران خان کے ساتھ اپنی رشتے داری کے بارے میں نہیں بتایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عمران خان کی بہن کو ٹیلی فون کیا۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ کے اس اقدام پر طنزیہ انداز میں بات کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا اور کہا کہ شہباز شریف نے ہی پولیس کو جنگلی فوج میں تبدیل کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تہہ تک جائیں گے اور پنجاب حکومت کو سیاسی انتقام کے پولیس کو استعمال کرنے کے عمل کو بے نقاب کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

خیال رہے کہ پاکستان کے مقامی میڈیا پر دو روز پہلے جاری کی جانے والی خبر کے مطابق گذشتہ بدھ کو لاہور کے ریس کورس تھانے کی حدود میں عمران خان کے بھانجوں کو لاہور کی ٹریفک پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں