’ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی عسکری ونگ کو منظم کرتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز کے ترجمان نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں کو جلد عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور انھیں تمام قانونی حقوق دیے جارہے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور نیم فوجی ادارے سندھ رینجرز نے ایک دوسرے پر براہ راست سنگین الزامات لگائے ہیں۔

سندھ رینجرز کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت عسکری ونگ چلاتی ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ رینجرز نے صوبہ سندھ کو مقبوضہ سندھ بنادیا ہے۔

دونوں طرف سے یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جبکہ شہر میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں میں تیزی آئی ہے۔

رینجرز کے ترجمان نے سنیچر کو رات گئے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ’ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی عسکری ونگ کو منظم کرتی ہے اس لیے اس کے سیکٹر اور یونٹ انچارج گرفتار کیے جا رہے ہیں۔‘

رینجرز کے ترجمان نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں کو جلد عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور انھیں تمام قانونی حقوق دیے جا رہے ہیں۔

رینجرز کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ’رینجرز کا آپریشن کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ گروہوں کے عسکری ونگ اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔‘

رینجرز کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں کچھ لوگ خود بھی گرفتاری دے رہے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں امن کے لیے رینجرز اور عوام ساتھ ساتھ ہیں۔

رینجرز کی جانب سے اس سال مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور اس کی آس پاس کی عمارتوں پر چھاپے اور مطلوب ملزمان سمیت درجنوں افراد کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ رینجرز کے ترجمان نے ایم کیو ایم پر عسکری ونگ چلانے کا دعویٰ کیا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ اسی وجہ سے اس کے تنظیمی عہدیداروں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔

Image caption متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ رینجرز نے صوبہ سندھ کو مقبوضہ سندھ بنادیا ہے

رینجرز کے ترجمان کے بیان پر اتوار کی صبح متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا ردعمل آیا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے ایک بیان میں رینجرز کے ترجمان کے بیان کو انتہائی گمراہ کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ رینجرز کے ترجمان کابیان اس حقیقت کااعتراف ہے کہ آپریشن صرف اورصرف ایم کیوایم کے خلاف کیاجا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ آپریشن کامقصد کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرنا نہیں بلکہ ایم کیوایم کوختم کرناہے۔‘

اس سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایک بیان میں کہا کہ سندھ کے شہریوں پر رینجرز غیرآئینی، غیرقانونی اور زمانہ جاہلیت کے ظلم و ستم ڈھا رہی ہے۔ ’ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور رینجرز نے پورے سندھ کو مقبوضہ سندھ بنادیا ہے۔‘

ایم کیو ایم کے ایک اعلامیے کے مطابق الطاف حسین نے رینجرز کی کارروائیوں سے آگاہ کرنے کے لیے سنیچر کو وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ٹیلی فون بھی کیا مگر ’پہلی کال پر آواز صاف نہیں آ رہی تھی اور قائم علی شاہ اپنی ضعیف العمری کے باعث الفاظ کو صحیح معنوں میں سمجھ نہیں پارہے تھے مگر دوسری بار کال کرنے پر ان کے آپریٹر نے اٹھایا اور اس نے کچھ دیر میں کال کرنے کا وعدہ کیا مگر انھوں نے کال نہیں کی۔‘

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق بعد میں الطاف حسین نے ’پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کو دبئی میں دو فون نمبروں پر کئی بار کال کی مگر وہاں بھی کسی نے فون نہیں اٹھایا۔‘

الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا ’سندھ آگ میں جل رہا ہے لیکن قائم علی شاہ کا غیرذمہ دارانہ رویہ اور آصف علی زرداری کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں سندھ دھرتی اور سندھ کے باسیوں سے ذرہ برابر نہ کوئی محبت ہے اور نہ ان کے مستقبل کی فکر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان کو رینجرز اور پولیس کی جانب سے بلاجواز گرفتار کرکے ان پر انسانیت سوز تشدد کیا جارہا ہے

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے سنیچر کو کراچی میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگادی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پروٹیکشن ایکٹ ملک دشمنوں کے خلاف بنایا گیا تھا لیکن بظاہر اسکا استعمال صرف ایم کیو ایم کے خلاف ہو رہا ہے جو ایم کیو ایم پر ظلم ہے اور اس میں ان کے بقول حکومت سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ برابر کے شریک ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کے پاس آخری امید عوام سے رجوع کرناہے ہم اس ظلم و ستم کے خلاف عوام سے رجوع کرکے جلد پر امن احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے۔‘

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان کو رینجرز اور پولیس کی جانب سے بلاجواز گرفتار کرکے ان پر انسانیت سوز تشدد کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں جو کچھ ہورہا ہے وہ دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا تھا لیکن اس آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کی تنظیمی سرگرمیوں کو مفلوج کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں