کشمیری جنگجوؤں میں ماند پڑتا جذبہ

مظفر آباد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان فوج کے سربراہ کے بیان کے بعد کشمیری ان کے حق میں جلوس نکال رہے ہیں

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے اس بیان نے کہ ’پاکستان اور کشمیر کو جدا نہیں کیا جا سکتا‘ بھارت اور پاکستان میں تناؤ بڑھا دیا ہے۔ دونوں جوہری طاقتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ پورا کشمیر انھیں کا ہے اور انھوں نے اس کے کچھ حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ لیکن بی بی سی کے نامہ نگار محمد الیاس خان نے مظفر آباد کے اپنے حالیہ دورے میں محسوس کیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت جو کہ ایل او سی کی دوسری جانب شورش کے لیے بنیادی کیمپ ہوا کرتا تھا اب غیر معمولی طور پر خاموش ہے۔

اگرچہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 15 سال پہلے 2003 میں شورش بظاہر ختم ہو گئی تھی جب پاکستان نے جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو روک دیا تھا لیکن 2012 سے ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

جنرل شریف کے حالیہ بیان سے ان خدشات میں اضافہ ہو جاتا کہ جنگجوؤں کی کارروائیاں شاید دوبارہ شروع ہو جائیں۔

لیکن مظفر آباد میں وہ لوگ جو کبھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کارروائیاں کرتے رہے بڑی خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں۔

کاریں دھونے والی ایک چھوٹی سی دکان کے شیشے کی دیوار کے پیچھے ایک دبلا پتلا شخص گرم پانی کی ایک دیگچی سے ٹرے میں رکھی ہوئی پیالیوں میں پانی ڈال رہا تھا۔

دوسرے شخص نے ٹرے اٹھائی اور دروازے سے باہر نکل گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ گاڑیاں صاف کروانے آتے ہیں وہ ہمیشہ کام ختم ہونے سے پہلے چائے بھی پینا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ دن میں زیادہ پیسے نہیں کماتے لیکن پھر بھی اتنے ضرور ہوتے ہیں کہ ’میں اس کے لیے خدا کا شکر کر ادا کر سکوں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ لڑکا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1990 میں ہلاک ہونے والے ایک جنگجو کا پوتا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق جنگجوؤ کے بچے مظفر آباد میں رعایتی تعلیم حاصل کر رہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راشدہ شفی جن کے جنگجو والد 2002 میں ہلاک کر دیے گئے تھے ڈاکٹر بن کر مظفر آباد میں اپنا مستقبل بنانا چاہتی ہیں

یہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کےسابق جنگجو ہیں جو اب پاکستان میں پھنس گئے ہیں۔ وہ ایک پناہ گزین ہیں، ان کے پاس شہریت کے حقوق نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی حقیقی اشارہ ملتا ہے کہ وہ کبھی لائن آف کنٹرول سے پار جا سکیں گے۔

کبھی وہ آزادی کے لیے لڑنے والے جوان جنگجو ہوا کرتے تھے مگر اب ایسے شہر میں جہاں ان کا کوئی خون کا رشتہ نہیں اور نہ ہی کوئی اپنا ہونے کا احساس ہے، وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

میں نے لائن آف کنٹرول پر اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں حالیہ دنوں میں جنگجوؤں نے بھارتی فوجیوں پر حملے کیے تھے اور ان سے پوچھا کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ جنگجو دھڑا جس میں وہ بطور جنگجو بھرتی ہوئے تھے انھیں دوبارہ بلائے گا۔ انھوں نے مجھے بڑی دیر تک خالی نظروں سے دیکھا۔

’اب ماضی کی طرح جہادی تنظیموں کے دفاتر کے سامنے کوئی حرکت نہیں، تربیت میں شمولیت کے لیے کوئی قطاریں نہیں اور نہ ہی کوئی گہما گہمی ہے۔‘

’میں نے اپنا گھر چھوڑا تھا کیونکہ میں یہ جنگ جیتنا چاہتا تھا، لیکن پاکستانی صرف بھارتیوں کو تنگ کرنا چاہتے تھے۔ وہ جنگ بندی کے لیے راضی ہو گئے اور بھارت کو ایل او سی پر باڑ لگانے کی اجازت دے دی۔ سو میرے خیال میں کشمیر کو انڈیا سے طاقت کے ذریعے آزاد کرانے کا وقت گزر گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ’میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے افغان پناہ گزینوں کے بچوں کی طرح ہو جائیں، اور پاکستان میں کوڑے کے ڈھیروں میں سے چیزیں ڈھونڈ کر زندگی گزاریں۔‘

مظفر آباد میں سرحد کی دوسری طرف سے آنے والے لگ بھگ 3000 سے 4000 کے قریب سابق جنگجو رہ رہے ہیں۔ 1989 میں بغاوت کے بعد تقریباً 30,000 کے قریب لوگ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے گھروں کو چھوڑ کر پاکستان آئے تھے جہاں انھیں تربیت اور اسلحہ دیا جاتا تھا۔

ان میں سے اکثر انڈین فورسز سے لڑنے واپس چلے گئے۔ بہت سے مارے گئے جبکہ کئی واپس جا کر عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے لگے۔

لیکن جب بین الاقوامی برادری کے دباؤ کے بعد پاکستان نے 2003 میں بھارت کے ساتھ جنگی بندی کا اعلان کیا اور سارے جنگجوؤں کو لڑنے سے روک دیا تو ان میں سے بہت سے پاکستان میں پھنس گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظفر آباد لائن آف کنٹرول کے پار پاکستان کی طرف واقع ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انڈیا کے انتظام کشمیر میں جنگجوؤں کے جنازے عام منظر ہوا کرتا تھا

اب زیادہ تر درمیانی عمر کے ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ اور جنگ کے لیے اکٹھے کیے گئے فنڈز، جن سے ان کا گزارا ہوتا تھا، کم ہوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان نے 2006 سے بھارتی کشمیر میں کارروائیوں کے لیے پیسہ دینا بند کر دیا تھا اور پاکستانی کشمیر سے کام کرنے والی جہادی تنظیموں کے انتظامی اخراجات کو بھی آدھا کر دیا تھا جس کی وجہ سے کئی انھیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

یہ اخراجات گذشتہ برس کم کیے تھے۔

اس کی وجہ سے سابق جنگجو سڑک کنارے چھوٹے موٹے تجارتی کاروبار چلانے یا کار واش گیراجوں، تعمیراتی مقامات یا ریستورانوں میں کام کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

حکومت ہر سابق جنگجو کو ماہانہ 7000 روپے وظیفہ ایک سرکاری اکاؤنٹ سے دیتی ہے اور یہ اس 1500 روپے سے الگ ہے جو ہر ماہ اس کے خاندان کے ہر فرد کو دیا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ معقول زندگی گزارنے کے لیے کافی نہیں ہے لیکن وہ خاندان جن کے مرد ابھی زندہ ہیں، ان کے لیے شاید کافی ہے۔ ایسے خاندان ان خاندانوں سے زیادہ خوش قسمت ہیں جن کی سربراہ اب جنگجوؤں کی بیوائیں ہیں۔

اور ایل او سی کے دونوں طرف ایسی بیوہ خواتین ہزاروں ہیں اور پاکستانی کشمیر میں کم از کم 150 تو رجسٹرڈ ہیں۔

بھارتی کشمیر کے علاقے اوڑی سے تعلق رکھنے والی حلیمہ بی بی ان میں سے ایک ہیں۔

اب وہ مظفر آباد کے جنوب میں واقع پناہ گزینوں کی ایک بستی امبور میں اپنے دو بچوں کے ساتھ ایک اندھیرے کمرے میں رہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کئی کشمیریوں نے ہتھیار بھی ڈال دیے ہیں

1995 میں جب وہ ابھی اٹھارہ انیس سال کی ہی تھیں تو ان کے خاندان والوں نے ان کی شادی ایک مشتبہ ڈبل ایجنٹ سے کر دی جو اسی وقت ہی اوڑی میں انڈین فورسز کے حراستی مرکز سے رہا ہوا تھا۔ شادی کے ایک سال بعد وہ دوبارہ پاکستان چلا گیا لیکن اس مرتبہ پاکستان میں پکڑا گیا اور مزید سات آٹھ پاکستان میں زیرِ حراست رہا۔

1997 میں وہ دوبارہ اوڑی آیا اور حلیمہ کو کہا کہ وہ ایل او سی پار کرنے کے لیے تیار رہے۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ ’ہم دو دن چل کے پاکستانی کشمیر میں داخل ہوئے۔‘

تین سال بعد ایک کارروائی کے دوران وہ اوڑی میں مارا گیا اور حلیمہ کو ایک انجان شہر میں دو بچوں کی کفالت کرنے کے لیے چھوڑ گیا۔

اب وہ حکومت کے وظیفے اور ایک سکول میں صفائی کا کام کر کے اپنا گزارا کرتی ہیں۔

انھوں نے آنسوؤں کے بغیر سپاٹ چہرے سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا کہ ’جنگ نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔ اس نے صرف مردوں کو چھین لیا ہے۔‘

مظفر آباد میں مقیم ایک تجزیہ کار عارف بہار کہتے ہیں کہ ایسے اشارے ہیں کہ پاکستان کشمیر میں تناؤ بڑھانے کا سوچ رہا ہے لیکن وہ بھی ’کنٹرولڈ‘ طریقے سے، غیر کشمیری گروہوں کے ذریعے۔

اس سے پاکستان میں پھنسے کشمیری جنگجوؤں میں کافی مایوسی پیدا ہوئی ہے۔

ایک سابق جنگجو عزیر غزالی کہتے ہیں کہ ’یہ پاکستان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہماری مسلح جدوجہد میں مدد فراہم کرے تاکہ ہم ہندوستان کی قابض فوج کو شکست دے سکیں۔‘

لیکن ان جنگجوؤں کی گھروں کو واپس جانے کی اس خواہش سے بے پرواہ ان کے بچے مظفرآباد اور پاکستان میں اپنا مستقبل ڈھونڈ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حلیمہ میر کے شوہر جنگجوؤں کی ایک ٹیم کی سربراہی کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے

16 سالہ اسد میر سویرا ماڈل سکول میں 10 ویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ ان کی بہن بھی اسی سکول میں پڑھتی ہے جبکہ ان کے بڑے بھائی ایک جنرل سٹور میں سیلز مین کا کام کرتے ہیں۔

ان کا خاندان بھی حکومتی وظیفے پر کام کرتا ہے لیکن وہ صاف ستھرے، پر اعتماد اور پر سکون لگتے ہیں۔ اس کی وجہ مفت تعلیم اور سکول تک مفت ٹرانسپورٹ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ریاضی بہت پسند ہے۔ میں انجینیئر بننا چاہتا ہوں۔‘

ان کے والد کا تعلق بارہ مُولا سے تھا اور وہ اسی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

’میری ماں کہتی ہیں کہ ان کی لاش کبھی نہیں ملی۔‘

اسد کا کہنا ہے کہ ان کی جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، صرف اس لیے نہیں کہ اس نے ان کے والد کو ان سے چھین لیا بلکہ اس لیے کہ وہ سرحد پار اپنے والد کے گھر اور گاؤں جانا نہیں چاہتے۔

’میں بارہ مُولا میں کسی کو نہیں جانتا۔ ماں کا کہنا ہے کہ مظفر آباد اب ہمارا گھر ہے۔ میرے خیال میں وہ صحیح ہیں۔‘‘

کسی بھی سابق جنگجو نے ہمیں اپنی تصویر اتارنے نہیں دی۔

اسی بارے میں