بلوچستان: بم دھماکے اور پرتشدد واقعات میں چار ہلاک، 16 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے کے لیے پانچ کلو مواد استعمال کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور تشدد کے دیگر واقعات میں چار افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔

بم دھماکہ اتوار کی شام باچا خان چوک پر ایک شاپنگ پلازہ کے باہر ہوا۔

سی سی پی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے کسی تھیلے یا ڈبے میں دھماکہ خیز مواد رکھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبے یا تھیلے کو بلدیہ پلازہ کے ساتھ ریڑیوں کے قریب رکھ دیا گیا تھا۔

سی سی پی او نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

سٹی پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں 14افراد زخمی ہوگئے ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے کے لیے پانچ کلو مواد استعمال کیا گیا تھا۔

زخمیوں کو علاج کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گوادر میں ٹرانسمیشن لائن پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملے میں میں تین مزدور ہلاک ہوگئے

ادھر ساحلی ضلع گوادر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین مزدور ہلاک ہوئے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پسنی میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کے ایک منصوبے پر کام ہورہا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ٹرانسمیشن لائن پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملہ کیا جس میں تین ہلاک ہوگئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان کی جانب سے سیٹلائٹ فون پر میڈیا کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے سرکاری مخبر تھے۔ اس دعوے کے برعکس انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے تمام مزدور تھے۔

فائرنگ کے ایک اور واقعے میں مچھ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

مچھ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فائرنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار ایک مسجد کی سیکورٹی پر تیعنات تھے

اسی بارے میں