عوام کی بہتری کا کوئی ہدف حاصل نہ ہوا

جیوی تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption رحیم یار خان کی رہائشی جیوی کی کہانی دراصل پاکستان میں زچگی کی مناسب سہولیات سے محروم لاکھوں خواتین کی کہانی بھی ہے

پاکستان زچہ و بچہ کی صحت سمیت سماجی ترقی کے حوالے سے متعین کردہ وہ تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو اسے اقوام متحدہ کے ’ملینیئم گول‘ پروگرام کے تحت سنہ 2015 تک حاصل کرنا تھے۔

عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں حکومت کی اس ناکامی کی لاکھوں مثالیں بڑے بڑے شہر سے لے کر چھوٹے چھوٹے دیہاتوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال جیوی کی کہانی ہے۔

پاکستان کے صوبۂ پنجاب جہاں ترقی اور گوڈ گوننس کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں وہاں کے ضلع رحیم یار خان کے ایک دور افتادہ گاؤں ہیڈ فرید کی باسی جیوی کوایک ہفتے قبل ہی جان لیوا اسقاطِ حمل یا بچہ ضائع ہونے کے عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ کھیتی باڑی کرتی ہیں اور اسی کے ذریعے پورے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں اسی لیے اب کوشش کر رہی ہیں کہ معمول کی زندگی کی طرف واپس آ جائیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ میں سے 276 خواتین زچگی کے دوران ہلاک ہوجاتی ہیں۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں ملینئیم ڈویلپمنٹ اہداف پر عمل کرتے ہوئے 15 برسوں میں حاملہ خواتین کی اموات کی تعداد کو کم کر کے 140 تک لانا تھا لیکن پاکستان اس میں ناکام رہا ہے۔

جیوی کے علاقے میں بنیادی صحت کا ایک سرکاری مرکز (بی ایچ یو) موجود ہے لیکن پاکستان کے بیشتر دیہی علاقوں کی خواتین کی طرح جیوی بھی اپنی صحت کے مسائل کے حل کے لیے غیر تربیت یافتہ روایتی دائیوں پر بھروسہ کرتی ہیں۔ جیوی کا کہنا ہے کہ مقامی صحت کے مرکز سے انھیں بہت ہی کم مدد ملتی ہے۔

’وہ اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کرتے۔ صحیح طریقے سے معائنہ بھی نہیں کرتے۔ ایسے ہی ہاتھ دیکھ کر دوائی لکھ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اُدھرسے گولیاں لو اور جاؤ۔ پہلے دو دفعہ ہم گئے تو انھوں نے کہا کہ بچہ ٹھیک ہے۔ ہم دوبارہ گئے تو انھوں نے کہا کہ بچہ مرا ہوا ہے۔انھوں نےکہا کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا۔ پھر ہم بڑے ہسپتال گئے۔وہ صحیح سے دیکھتے تو میرا بچہ نہ مرتا‘۔

ایک ہفتے قبل جیوی کی حالت بِگڑی اور انھیں بنیادی صحت کے سب سے قریبی مرکز لے جایا گیاجو آدھے گھنٹے کی مُسافت پر تھا۔

جیوی اُس وقت پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔بی ایچ یو سے جواب ملنے کے بعد بڑے ہسپتال کا رُخ کیا لیکن جیوی کے بقول ہسپتال پہنچتے پہنچتے ان کا بچہ ختم ہو چکا تھا۔

حکومت کا دعوٰی ہے کہ صحت کے یہ بنیادی مراکز حاملہ خواتین کی دیکھ بھال اور ڈیلیوری سروسز کے لیے 24 گھنٹے فعال ہوتے ہیں لیکن اِن بنیادی صحت کے مراکز میں اکثر و بیشتر وہ ضروری آلات ہی موجود نہیں ہوتے جس کی مدد سے مائیں باآسانی بچوں کو جنم دے سکیں جبکہ ملک بھر میں بہت سے مراکز تو سرے سےغیر مؤثر ہیں۔

ہیڈ فرید میں قائم بی ایچ یو کے دورے کے دوران دیکھنے میں آیا کہ وہاں ایکسرے اور الٹراساؤنڈ مشین موجود تھی۔ ڈیلیوری روم کی حالت ناگُفتہ بہ تھی، آلات پر زنگ لگا تھا، بیڈ شیٹس غائب اور بستر پر خون کے دھبے لگے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

اسی بی ایچ یو میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکر رابعہ لیاقت کے مطابق ’صرف پچھلے ایک ماہ کے دوران انھوں نے 20 زچگیاں کروائیں لیکن سہولیات کے فقدان کی وجہ سے انھیں اپنا کام کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں‘۔

رابعہ لیاقت نے بتایا ’جب مریض کی جان بچانا مشکل ہوتا ہے توکیس آگے بھیجنا پڑتا ہے۔ ایسے میں گاڑی کے ملنے نہ ملنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔ لوگ علاقے سے تلاش کر کے گاڑی لاتے ہیں اور پھر وہ مریض کو آگے لے کر جاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہاں ایمبولینس اور آپریشن تھیٹر کا ہونا لازمی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بین الاقوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے حالیہ اعدادو شمار کے مطابق زچگی کے دوران ہلاکتوں کے معاملے میں پاکستان ایک سو اناسی ممالک میں149 ویں نمبر پر ہے

بین الاقوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے حالیہ اعدادو شمار کے مطابق زچگی کے دوران ہلاکتوں کے معاملے میں پاکستان ایک سو اناسی ممالک میں149 ویں نمبر پر ہے ۔

یہاں لاکھوں خواتین اسقاط حمل اور قبل از پیدائش پیچیدگیوں جیسے مسائل کا شکار ہیں۔

ادارے کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان حاملہ خواتین کے لیے جنوبی ایشیا کا دوسرا بدترین ملک ہے۔

جیوی جیسی خواتین کے لیے یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے جنھیں مشکل اور تکلیف دہ حمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی اپنے بچوں کو کھونے کا دُکھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں